بھارتی فوج نے پہلی بار مئی میں پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں غیر متعین تعداد میں لڑاکا طیاروں کو کھونے کی  تصدیق کردی۔

رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی فوج نے پہلی بار اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے مئی میں پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں غیر متعینہ تعداد میں اپنے لڑاکا طیارے کھو دیے۔

ہندوستانی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان نے نقصان کا اعتراف ہفتے کے روز سنگاپور میں شنگری لا ڈائیلاگ میں شرکت کے دوران امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

بھارتی چیف آف ڈیفینس اسٹاف انیل چوہان نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان نے ہمارے کئی طیارے مار گرائے۔

بھارتی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے کہا کہ اہم بات یہ نہیں ہے کہ طیارے گرائے گئے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیوں گرائے گئے، انیل چوہان نے مزید کہا کہ جو غلطیاں ہوئیں، وہ اہم ہیں۔

چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 4 روزہ تنازع کبھی ایٹمی جنگ کے قریب نہیں پہنچا۔

سی این این اور رائٹرز نے مہینے کے شروع میں رپورٹ کیا تھا کہ امریکی اور فرانسیسی حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان نے چین سے حاصل کردہ طیارے کی مدد سے ہندوستانی جیٹ طیارے کو گرایا۔

سی این این نے سینئر امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے تجزیے کے مطابق پاکستانی فورسز نے پاکستان کے اندر ہندوستان کے فضائی حملوں کے دوران جیٹ کو مار گرایا۔

فرانس کے اعلیٰ انٹیلی جنس اہلکار نے بھی سی این این کو بتایا کہ ہندوستانی فضائیہ کے زیر استعمال رافیل لڑاکا طیارہ پاکستان نے مار گرایا۔

بی جے پی کے سینئر سیاستدان پہلے ہی گزشتہ روز 5 بھارتی جیٹ طیاروں کو گرائے جانے کااعتراف کرچکے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گھر کے شیر باہر ڈھیر، ویمنز ٹیم ٹرائنگولر سیریز میں مشکلات کا شکار
  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی