بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کی بھارتی لڑاکا طیارے تباہ ہونے کی تصدیق،ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
نئی دہلی(اوصاف نیوز)بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے آخرکار اعتراف کر لیا ہے کہ مئی میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی فضائی جھڑپوں میں بھارت کے کئی لڑاکا طیارے تباہ ہوئے۔ یہ انکشاف بلومبرگ کی خاتون صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا .
بھارتی افواج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے سنگاپور میں جاری شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران اعتراف کیا کہ بھارتی فضائیہ نے لڑاکا طیارے کھوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح طور پر تعداد بتانے سے گریز کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ’طیارے گرنا اہم نہیں، یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کیوں گرے۔‘
بھارت کے اس اعتراف نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے اور پاکستانی مؤقف کو تقویت ملی ہے کہ بھارت نے بلااشتعال حملے کیے، اور پاکستان نے بھرپور دفاع کرتے ہوئے دشمن کے طیارے گرا کر اسے منہ توڑ جواب دیا۔
اپنی حدود میں رہیں! کامران اکمل کی بابراعظم کے والد کو شٹ اپ کال
جنرل چوہان نے کہا، ’اہم بات یہ ہے کہ غلطی کہاں ہوئی، کیا کوتاہیاں رہیں، اور کس وجہ سے طیارے گرے۔ تعداد کی کوئی اہمیت نہیں۔‘
یہ پہلا موقع ہے جب بھارتی فوج نے باضابطہ طور پر پاکستان کے ساتھ حالیہ جھڑپوں میں اپنے لڑاکا طیاروں کے نقصان کی تصدیق کی ہے۔
اس سے قبل پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے اعلان کیا تھا کہ پاکستانی فضائیہ نے چھ بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے، جن میں تین فرانسیسی ساختہ رافیل بھی شامل تھے۔ بھارتی بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے ایک روز قبل ہی پانچ طیاروں کی تباہی کا اعتراف کیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل چوہان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی رد کر دیا کہ امریکہ نے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکا۔ چوہان کے مطابق یہ دعویٰ ’’غیر حقیقی‘‘ ہے کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کے قریب نہیں پہنچے تھے۔
بھارتی جنرل نے پاکستان کی جانب سے چینی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال کو بھی غیر مؤثر قرار دینے کی کوشش کی، حالانکہ میدانِ جنگ کے نتائج ان کے اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔
اپنی حدود میں رہیں! کامران اکمل کی بابراعظم کے والد کو شٹ اپ کال https://dailyausaf.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: لڑاکا طیارے چوہان نے
پڑھیں:
عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔
پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔