’کتنے جنگی طیارے تباہ ہوئے؟‘، بھارتی جنرل کا جواب دینے سے گریز
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف (CDS) جنرل انیل چوہان نے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں آپریشن سندھور کے دوران تباہ ہونے والے جنگی طیاروں کی تعداد بتانے سے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور بھارت سرحدوں پر تعینات اضافی فوجیوں کی واپسی کے عمل کے قریب پہنچ چکے ہیں، جنرل ساحر شمشاد مرزا
بھارتی جنرل انیل چوہان نے طیاروں کی تباہی سے متعلق سوال کو یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی کہ اس وقت اس معلومات کو ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
یہ انٹرویو سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ کے موقع پر دیا گیا، جہاں جنرل چوہان نے جدید جنگی حکمت عملیوں، خاص طور پر انفارمیشن وارفیئر اور مصنوعی ذہانت (AI) کے کردار پر تفصیل سے بات کی۔
جنرل چوہان نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران غلط معلومات کا مقابلہ کرنا آپریشن کے تقریباً 15 فیصد حصے پر محیط رہا، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ معلوماتی محاذ اب جنگ کا مرکزی میدان بن چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 22 اپریل کو پہلگام میں حملے کے بعد شروع ہونے والی کثیر الجہتی کارروائی ’آپریشن سندور‘ میں جھوٹے بیانیوں اور گمراہ کن معلومات کا سدباب ایک اہم چیلنج رہا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں، پاک بھارت کشیدگی کے دوران حمایت پر شکریہ ادا کیا
جنرل چوہان نے مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی افادیت پر بھی روشنی ڈالی مگر ساتھ ہی خبردار کیا کہ اس میں فیصلہ سازی کی خودکاریت جارحانہ اقدامات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر جب ’کم جانی نقصان‘ کا تاثر غالب ہو۔
انہوں نے کہا کہ AI کی موجودہ فوجی ایپلی کیشنز محدود ہیں کیونکہ یہ زیادہ تر اوپن سورس ڈیٹا پر انحصار کرتی ہیں۔
انہوں نے سفارش کی کہ AI کو آپریشنل منصوبہ بندی، وار گیمنگ اور انٹیلی جنس میں بہتر انداز میں شامل کیا جائے۔
جنرل چوہان کے انٹرویو میں تباہ شدہ جنگی طیاروں کی تعداد کے بارے میں سوال پر انکار نے اس حساس معلومات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، جو ممکنہ طور پر قومی سلامتی اور آپریشنل حکمت عملیوں کے تحفظ کے لیے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنرل انیل چوہان سنگاپور شنگریلا ڈائیلاگ طیاروں کی تباہی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنرل انیل چوہان سنگاپور طیاروں کی تباہی جنرل چوہان طیاروں کی چوہان نے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔