بلوچستان میں واقعات پر سرکار فقط مذمتی بیانات دیتی ہے، امان اللہ کنرانی
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
اپنے بیان میں امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ دھمکی دینے اور بھارت کی سازش کا طعنہ دینے والے خود چھپ کر غریب کے بچوں کو بہادری اور مخالفین کو غداری کا سرٹیفکیٹ دیتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے سوراب میں بھاگ کچھی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر کے بیٹے اور اے ڈی سی سوراب ہدایت اللہ بلیدی سمیت دیگر بے گناہوں کے قتل پر دکھ افسوس و رنج کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کے تسلسل کو بلوچستان کی مخدوش صورتحال کو مزید گھمبیر بنانے کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ اپنے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ان واقعات پر سرکار کی جانب سے مذمتی بیانات و دھمکی آمیز گرجتا برستا لہجہ اور بھارت کی سازش کا طعنہ، حکومت کے مرد و خواتین ناقدین کو بھارت کا ایجنٹ قرار دینا اور را کے فنڈز کی ترسیل سے بیک زبان جوڑے جانے کا عمل جاری ہے۔ تاہم یہ بیانات دینے والے خود بلوں میں گھسے ہوتے ہیں۔ ان کے نام پر بیانات جاری ہوتے رہتے ہیں جو غریب کے بچوں کو بہادری و مخالفین کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے رہتے ہیں۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے۔ دنیا میں مہذب و مسلمہ اور بین الاقوامی اصولوں کے تحت ہر تنازعہ کو پرامن طریقے بات چیت سے حل کیا گیا ہے۔ عید سے قبل حالات کی سنگینی عوام کیلئے عید، قربانی اور حج کی خوشیاں ناپید کردے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔