روس اور چین کا چاند پر نیوکلیئر پاور پلانٹ لگانے کا منصوبہ، تیاریاں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
روس اور چین مستقبل کے منصوبوں کےلیے درکار توانائی کی ضرورت پوری کرنے کےلیے چاند پر نیوکلیئر پاور پلانٹ لگانے پر غور کر رہے جس سے متعلق تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
گزشتہ ماہ کے آغاز میں روسی خلائی ایجنسی ’روسکوسموس‘ کے سربراہ یوری بوریسوف نے دعویٰ کیا تھا کہ چین اور روس مشترکہ منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
یوری بوریسوف کا کہنا تھا کہ چین اور روس 2033ء سے 2035ء کے قریب چاند پر نیوکلیئر پاور پلانٹ لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ تاکہ آنے والے دنوں میں چاند پر انسانی بستیوں کے قیام میں مدد مل سکے۔
’روسکوسموس‘ کے سربراہ اور سابق روسی نائب وزیرِ دفاع کا مزید کہنا تھا کہ روس کے پاس خلائی جوہری توانائی پر کام کرنے کا تجربہ اور مہارت ہے، اس منصوبے میں وہ چین کے ساتھ کام کریں گے، منصوبے کے تحت آئندہ 10 سے 11 سال کے دوران چاند کی سطح پر پاور پلانٹ پہنچا کر اسے نصب کر دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسقبل میں چاند پر انسانی آبادی کےلیے سولر پینل سے مطلوبہ بجلی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا جبکہ نیوکلیئر پلانٹ یہ ضرورت پوری کر سکتا ہے، یہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا چیلنج ہوگا جسے انسانوں کے بغیر خودکار نظام کے تحت چلایا جائے گا۔
دوسری جانب حال ہی میں اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ روس نے چاند پر جوہری پاور پلانٹ کی تعمیر کےلیے چین کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایک بیان میں روسی خلائی ایجنسی ’روسکوسموس‘ کے ڈائریکٹر جنرل یوری بوریسوو نے بتایا کہ اس تحقیقی مرکز میں بنیادی خلائی تحقیق کی جائے گی اور مرکز میں بغیر انسانوں کے طویل المعیاد آپریشنز مکمل کرنے کی ٹیکنالوجی کی آزمائش کی جائے گی۔
یہ نیا تحقیقی مرکز چاند کے جنوبی قطب میں انسانوں کو قیام کی سہولت بھی فراہم کرے گا اور اب تک 17 ممالک بشمول پاکستان اس پروگرام کا حصہ بن چکے ہیں۔
اس منصوبے پر کام کا آغاز 2028ء میں چین کے چینگ ای 8 مشن سے ہوگا جو کہ چین کا ممکنہ طور پہلا مشن ہوگا جب اس کا ایک خلا باز چاند کی سطح پر قدم رکھے گا۔
تحقیقی مرکز کے لیے چین اور روس کی جانب سے روبوٹیک مشنز 2030ء سے 2035ء کے دوران چاند پر بھیجے جائیں گے۔
’اسپیس ڈاٹ کام‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق روسی جوہری ری ایکٹر کو چین اور روس کی جانب سے چاند پر تعمیر کیے جانے والے مشترکا تحقیقی آپریشن کو بجلی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، دونوں ممالک کے دوران طے پائی جانے والی مفاہمتی یادداشت کے مطابق اس جوہری پلانٹ اور تحقیقی مرکز کی تعمیر کو 2036ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ جنرل یوری بوریسوف نے 2024ء میں ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ اس جوہری پاور پلانٹ کی تعمیر کو انسانوں کے بغیر مکمل کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ٹیکنالوجی پیشرفت لگ بھگ تیار ہے۔
واضح رہے کہ روس اور چین کے مشترکہ پروجیکٹ سے متعلق تیاریوں کے مکمل ہونے کے بارے میں یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی خلائی ادارے نے انکشاف کیا کہ 2026ء کی بجٹ سفارشات میں ادارے نے چاند کے مدار پر تحقیقی مرکز کی تعمیر کے منصوبے کو ختم کر دیا ہے۔
Post Views: 4.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چین اور روس کہنا تھا کہ پاور پلانٹ کے دوران کی تعمیر جائے گا چاند پر چین کے
پڑھیں:
خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کی نجکاری ملکی معیشت کی بہتری اورترقی کے لئے ناگزیر ہے، وزیراعظم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جولائی2025ء)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کی نجکاری ملکی معیشت کی بہتری اور ترقی کے لئے ناگزیر ہے،نجکاری کے عمل کو موثر ، جامع اور مستعدی سے مکمل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،منتخب اداروں کی نجکاری میں تمام قانونی مراحل اور شفافیت کے تقاضے پورے کئے جائیں۔وہ بدھ کو یہاں سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کی پیشرفت سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔اجلاس میں وفاقی وزیر پاور ڈویڑن سردار اویس خان لغاری، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ سرکاری افسران اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔(جاری ہے)
وزیراعظم نے کہا کہ قومی اداروں کی بیش قیمت اراضی پر ناجائز قبضہ کسی صورت قابل قبول نہیں،نجکاری کے مراحل میں قومی اداروں کی ملکیت میں بیش قیمت اراضی کے تصفیہ میں ہر ممکن احتیاط ملحوظ خاطر رکھی جائے ،مذکورہ اداروں کی مرحلہ وار نجکاری کے اہداف مارکیٹ کے معاشی ماحول کے مطابق مقرر کئے جائیں تاکہ قومی خزانے کو ممکنہ نقصان سے ہر صورت بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ نجکاری کے مراحل میں سرخ فیتیاور غیر ضروری عناصر کا خاتمہ کرنے کیلئے نجکاری کمیشن کو قانون کے مطابق مکمل خود مختاری دی جائے گی، تمام فیصلوں پر مکمل اور موثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے ،نجکاری کمیشن میں جاری کام کی پیشرفت کی باقاعدگی سے خود نگرانی کروں گا،نجکاری کے مراحل اور اداروں کی تشکیل نو میں پیشہ ور ماہرین کی مشاورت اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھا جائے۔وزیراعظم کو 2024 میں نجکاری لسٹ میں شامل کئے گئے اداروں کی نجکاری پر پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن منتخب اداروں کی مرحلہ وار نجکاری میں قانونی، مالیاتی اور شعبہ جاتی تقاضوں کو مد نظر رکھ رہا ہے ،منتخب اداروں کی مرحلہ وار نجکاری کو کابینہ سے منظور شدہ پروگرام کے تحت مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے گا،پی آئی اے، بجلی کی ترسیل کار کمپنیز (ڈسکوز) سمیت نجکاری کی لسٹ میں شامل تمام اداروں کی نجکاری کو مقررہ معاشی، اداراجاتی اور انتظامی اہداف کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔