ملکی اداروں سے کرپشن کے خاتمے اور اصلاحات کےلئے انتھک محنت کررہے ہیں، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
ملکی اداروں سے کرپشن کے خاتمے اور اصلاحات کےلئے انتھک محنت کررہے ہیں، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 2 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی اداروں سے کرپشن کے خاتمے اور اصلاحات کے لیے انتھک محنت کررہے ہیں۔
ایف بی آر کے امور کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جاری اقدامات و اصلاحات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے لیے عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ معرکہ حق کی تاریخ ساز فتح کے بعد ملکی اداروں میں پائیدار اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو ایک مستحکم عالمی معیشت بنانے کی جد و جہد میں فتح یاب ہونے کے لیے حکومت پاکستان پر عزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام شعبوں میں ادارہ جاتی اصلاحات تیزی سے جاری ہیں۔ ملکی اداروں سے کرپشن کے انسداد اور شفافیت کی عدم موجودگی جیسی دیگر خامیوں کو دور کرنے کے لیے حکومت پاکستان کے تمام ادارے انتھک محنت کر رہے ہیں۔
اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حالیہ مثبت معاشی اشاریے حکومتی پالیسیوں کی درست سمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کی حالیہ کارکردگی پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے مزید کہا کہ شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے لائے گئے سسٹم جیسی اصلاحات کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ انشاء اللہ پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کی اس جد و جہد میں ہم کامیاب ہوں گے۔
اجلاس میں وزیراعظم کو فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کی حالیہ کارکردگی اور پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ میں اصلاحات کی پیشرفت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کے نفاذ سے محصولات میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے اور کسٹمز کلیئرنس کے دورانیے میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ عام صارفین کے لیے آسان ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرن کا نظام جلد نافذ العمل کیا جائے گا۔ عام صارفین کی سہولت کے لیے دیجیٹل ٹیکس ریٹرن کے نظام کو اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں متعارف کرنے کے عمل پر کام تیزی سے جاری ہے۔
وزیراعطم کی زیرصدارت اہم اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربجٹ میں بچت اسکیموں اور بینک ڈپازٹ پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز بجٹ میں بچت اسکیموں اور بینک ڈپازٹ پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز عمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کرنے کیلیے پولیس ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی پی ٹی وی ملازمین کو ڈگری ویریفیکیشن کا حتمی نوٹس، عدم تعمیل پر ملازمت ختم کرنے کا انتباہ نیب کا بڑا اقدام، بحریہ ٹاؤن کی جائیدادیں نیلام کرنے کا اعلان کراچی میں بنیان مرصوص کانفرنس، علماء کا پاک فوج کو خراج تحسین ایک سو نوے ملین پائونڈ کیس: نیب نے خصوصی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ملکی اداروں سے کرپشن کے انتھک محنت
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔