وزیراعظم کی زیرصدارت ایف بی آر اصلاحات پر جائزہ اجلاس، تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کیلئے کمپنیوں کو شامل کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ایف بی آر اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا، جس میں اصلاحات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کیلئے کمپنیوں کو شامل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ معاشی استحکام کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات تیزی سے جاری ہیں،حکومتی ادارے کرپشن کے خاتمے کیلئے انتھک محنت کررہے ہیں،وزیراعظم نے معاشی اشاریوں کو حکومتی پالیسیوں کی کامیابی قرار دیا۔
وزیراعظم نےکہاکہ مثبت معاشی اشاریے پالیسیوں کی درست سمت کا ثبوت ہیں،وزیراعظم نے فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کی حالیہ کارکردگی پراظہار اطمینان کیا۔
آتش فشاں کے پھٹنے کی پیشگوئی کا نیا اور حیران کن طریقہ دریافت کرلیا گیا
اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ سسٹم کے نفاذ سے محصولات میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا،ڈیجٹیل ٹیکس ریٹرن سسٹم اردو اور مقامی زبانوں میں متعارف کرایا جائے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔