اپسوس صارف اعتماد سروے ذمہ دارانہ معاشی حکمت عملی کا عکاس: محمد اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے آئی پی ایس او ایس (اپسوس) کے دوسری سہ ماہی 2025 کے صارف اعتماد سروے کے نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان نتائج کو پاکستان میں بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال اور عوامی رجحانات کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔ اتوار کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق سروے کے مطابق صارفین کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب 42 فیصد پاکستانی یہ یقین اور اعتماد رکھتے ہیں کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے جو گزشتہ چھ سال کے دوران بلند ترین سطح ہے۔ سروے کے مطابق معیشت کو مستحکم تصور کرنے والوں کی شرح بھی اگست 2019 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ صارف اعتماد کی نگرانی کے آغاز سے لے کر اب تک امید پسندی نے مایوسی پر سبقت حاصل کر لی ہے، جو عوامی سوچ میں اہم مثبت تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے سروے کے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج گزشتہ 14 ماہ میں حکومت کی مربوط اور ذمہ دارانہ معاشی حکمت عملی کی کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے، زرِ مبادلہ کی شرحِ تبادلہ کو مستحکم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر کو بحال کرنے اور مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے جیسے اہم اقدامات سے عوام کے اعتماد اور معاشی بحالی کے لیے بنیاد فراہم کی ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی واضح کیا کہ بڑے حجم کی خریداریوں اور سرمایہ کاری کے حوالے سے صارفین کے اعتماد میں بھی پچھلے سال کی نسبت دوگنا اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب گھرانے اپنی مالی حالت کے بارے میں پہلے سے زیادہ پْراعتماد ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سروے کے
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔