اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ ہوئے تو وزیراعظم کو بھی طلب کرسکتے ہیں:چیف الیکشن کمشنر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ کرائے گئے تو الیکشن کمیشن وزیراعظم کو بھی طلب کرسکتا ہے۔
نجی سوشل میڈیا ویب سائٹ وی نیوز کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے یہ بات پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کہی، جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر نے کی۔ 5 رکنی کمیشن کے روبرو سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب اور وفاقی حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتیں۔
ان کے مطابق پنجاب میں 3 سال سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے حالانکہ وہاں 31 دسمبر 2021 کو بلدیاتی حکومتوں کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ سیکرٹری نے مزید بتایا کہ 2019 سے اب تک پنجاب میں 5 بار مقامی حکومت سے متعلق قوانین تبدیل کئے جا چکے ہیں اور اب چھٹی بار قانون سازی کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر وزیر بلدیات پنجاب نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ نیا قانون قائمہ کمیٹی میں زیر غور ہے اور جلد منظوری کی کوشش جاری ہے۔ ان کے مطابق بل کو اسمبلی میں 3 ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے جبکہ عام طور پر منظوری کےلئے دو ماہ درکار ہوتے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلدیاتی حکومتوں کے حوالے سے خود سپریم کورٹ میں پیش ہو چکے ہیں اور اب یہ ممکن نہیں کہ صوبائی حکومت محض قانون سازی کے انتظار میں انتخابات ملتوی کرتی رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے باضابطہ حکم جاری کرے تو یہ حکومت کے لئے شرمندگی کا باعث بنے گا۔
ممبر کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ اب ہمیں کسی ایسے فرد کو بلانا ہوگا جو حتمی یقین دہانی کرا سکے کہ انتخابات کب ہوں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ کمیشن آنکھیں بند کرکے نہیں بیٹھ سکتا۔ اگر پنجاب میں وزیراعلیٰ کو بلایا جا سکتا ہے تو اسلام آباد کے معاملے میں وزیراعظم کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔
باپ نے تین بچوں کو زہر دے کر خود کشی کرلی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر نے بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن اسلام آباد
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔