17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کی آخری ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل، مداحوں کی انصاف کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
چترال سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کی آخری سوشل میڈیا پوسٹ وائرل ہوگئی۔
نوجوان ٹک ٹاکر کی والدہ نے بتایا کہ شام 5 بجے کے قریب نوجوان لڑکا اسلام آباد میں ان کے گھر میں داخل ہوا اور ان کی بیٹی کو سینے میں دو گولیاں مار کر فرار ہوگیا۔ اسلام آباد پولیس نے 20 گھنٹوں کے اندر ملزم کو فیصل آباد سے کرلیا۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم ثنا یوسف سے دوستی کرنا چاہتا تھا، مقتولہ کی جانب سے مسلسل پیشکش مسترد ہونے پر عمر نامی 22 سالہ نوجوان نے انتہائی سنگین قدم اُٹھایا۔
A post common by sana (@sanayousaf22)
ثنا یوسف نے آخری مرتبہ اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنی سالگرہ کی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کی تھیں جو وائرل ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کم انفلوئنسر کے قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔
صارفین اور ثنا یوسف کو فالو کرنے والے مداحوں کا مطالبہ ہے کہ مجرم کو سخت سے سخت سزا دے کر ٹک ٹاکر کے لواحقین کو انصاف دلوایا جائے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا ثنا یوسف ٹک ٹاکر
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔