عمران خان اِس مرتبہ کس طرز کا احتجاج کرنے والے ہیں؟ بابراعوان نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
لاہور:
بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے کس طرز کے احتجاج کی تیاریں کی جا رہی ہیں، اس حوالے سے سینیٹر بابراعوان نے تفصیلات بتا دیں۔
ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابراعوان نے آئندہ دنوں میں بھرپور احتجاج کی تیاریوں کا اعلان کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خود اس احتجاجی تحریک کی قیادت کریں گے، جو تاریخ میں نیلسن منڈیلا اور مہاتما گاندھی کے پرامن احتجاج کی طرز پر ہو گا۔
بابر اعوان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے دو اہم فیصلے کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ آئندہ پارٹی احتجاج کی خود قیادت کریں گے اور دوسرا یہ کہ احتجاج کسی بھی صورت ہو گا ، اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسے گاندھی نے کیا، جیسے منڈیلا نے کیا، ویسے ہی اب عمران خان احتجاج کی قیادت کریں گے۔
بابر اعوان نے کہا کہ لوگوں کو معلوم تھا کہ فارم 47 پہلے سے بنا ہوا ہے، اس کے باوجود عام آدمی باہر نکلا اور اس نے اپنی تقدیر بدلنے کا ارادہ کیا۔ سمبڑیال میں گولی چلنے، گھروں پر چھاپے پڑنے اور خواتین کے بچوں کو اٹھانے کے باوجود لوگ باہر نکلے۔
انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اتنی تکلیف دینے کے بجائے ووٹ چوری کرو کا ایک فارم الگ سے بنا لیں۔ اگر آپ نے جس کو سیٹ دینی ہے وہ پہلے سے طے ہے تو لوگوں کو بتا دیں، تاکہ دھوکا نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کرانے کی بات کی جا رہی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کے جیتنے کے امکانات صفر ہیں۔ کوئی آزاد کونسلر بھی جیت کر دکھا دے، ممکن نہیں۔
ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے انہوں نےطنزیہ انداز میں کہا کہ مولانا صاحب کا حلوہ بہت پتلا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک ایک کر کے تمام مقدمات سے بری ہو رہے ہیں۔
بابر اعوان نے دعویٰ کیا کہ اب پنجاب کے عوام جاگ چکے ہیں۔ اگر کوئی شخص آنکھیں بند کرکے کہے کہ میں سویا ہوں، تو وہ سویا نہیں ہوتا۔ اسی طرح اب پنجابی جاگ چکے ہیں اور کوئی انہیں روک نہیں سکتا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان احتجاج کی پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔