لاہور:

بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے   کس طرز کے احتجاج کی تیاریں کی جا رہی ہیں، اس حوالے سے سینیٹر بابراعوان نے تفصیلات بتا دیں۔

ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابراعوان نے آئندہ دنوں میں بھرپور احتجاج کی تیاریوں کا اعلان کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خود اس احتجاجی تحریک کی قیادت کریں گے، جو تاریخ میں نیلسن منڈیلا اور مہاتما گاندھی کے پرامن احتجاج کی طرز پر ہو گا۔

بابر اعوان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے دو اہم فیصلے کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ آئندہ پارٹی احتجاج کی خود قیادت کریں گے اور دوسرا یہ کہ احتجاج کسی بھی صورت ہو گا ، اسے کوئی روک نہیں سکتا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسے گاندھی نے کیا، جیسے منڈیلا نے کیا، ویسے ہی اب عمران خان احتجاج کی قیادت کریں گے۔

بابر اعوان  نے کہا کہ لوگوں کو معلوم تھا کہ فارم 47 پہلے سے بنا ہوا ہے، اس کے باوجود عام آدمی باہر نکلا اور اس نے اپنی تقدیر بدلنے کا ارادہ کیا۔ سمبڑیال میں گولی چلنے، گھروں پر چھاپے پڑنے اور خواتین کے بچوں کو اٹھانے کے باوجود لوگ باہر نکلے۔

انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اتنی تکلیف دینے کے بجائے ووٹ چوری کرو کا ایک فارم الگ سے بنا لیں۔ اگر آپ نے جس کو سیٹ دینی ہے وہ پہلے سے طے ہے تو لوگوں کو بتا دیں، تاکہ دھوکا نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کرانے کی بات کی جا رہی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کے جیتنے کے امکانات صفر ہیں۔ کوئی آزاد کونسلر بھی جیت کر دکھا دے، ممکن نہیں۔

ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے انہوں نےطنزیہ انداز میں کہا کہ مولانا صاحب کا حلوہ بہت پتلا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک ایک کر کے تمام مقدمات سے بری ہو رہے ہیں۔

بابر اعوان نے دعویٰ کیا کہ اب پنجاب کے عوام جاگ چکے ہیں۔ اگر کوئی شخص آنکھیں بند کرکے کہے کہ میں سویا ہوں، تو وہ سویا نہیں ہوتا۔ اسی طرح اب پنجابی جاگ چکے ہیں اور کوئی انہیں روک نہیں سکتا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان احتجاج کی پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان