امریکا کو 249 یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتاہوں؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عوام کو آزادی کی مبارکباد پیش کرتا ہوں، دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہیں ۔
اسلام آباد میں امریکا کی آزادی کی 249 ویں سالگرہ کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعظم شہبازشریف اور وزیرداخلہ محسن نقوی نے تقریب میں شرکت کی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ امریکا کو 249 یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتاہوں، پاکستانی عوام کی جانب سے امریکی عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں، پاکستان اور امریکا کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے کے لے پر عزم ہیں، دونوں ملک جمہوریت روایات اور آئین کی بالا دستی پر یقین رکھتے ہیں۔
صدرِ مملکت سے سردار سلیم حیدر سمیت پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
شہباز شریف نے کہاکہ امریکا پہلا ملک ہے جس نے پاکستان کو 1947 میں تسلیم کیا ، امریکا اور پاکستان میں 1950 میں شراکت داری شروع ہوئی، امریکا اور پاکستان دوستی کے نئے رشتے میں داخل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر میں امریکا نے تعاون کیا ۔
پہلگام واقعہ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن تھا، پاکستان اور بھارت کی جنگ 4 دن جاری رہی، بھارت پہلگام واقعہ کے ثبوت دنیا کونہیں دکھا سکا، پاکستان نے بھارت کے 6 طیارے مار گرائے، بھارت نے پاکستان کی شہری آبادی اور بچوں کو نشانہ بنایا، پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ، پاکستان کے بھرپور جواب پر جنگ بندی کی پیش کش ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی دوستوں نے خلوص سے کہا پاکستان کو تحمل کامظاہرہ کرناچاہیے، پاکستان نے امن کیلئے سیز فائر کی درخواست قبول کی ۔
متحدہ عرب امارات میں عید الاضحیٰ پر 3 ہزار قیدیوں کی رہائی کا حکم
وزیراعظم نے قیام امن کیلئے امریکی صدر کے کردار کی تعریف کی ۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کولڈ وار، اور ہاٹ وار کے خلاف ہیں، صدر ٹرمپ نے بلاشبہ ثابت کردیا وہ امن کے پیامبر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدرنے پاکستان اور بھارت پرتجارت اور سرمایہ کاری کیلئے زوردیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پاکستان اور
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں