امریکا کا یوٹرن؟ ایران کو یورینیم افزودگی کی مشروط اجازت دینے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
واشنگٹن : امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک نئی عبوری تجویز پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت ایران کو کم سطح پر یورینیم کی افزودگی کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
یہ تجویز امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کو ایک "سفارتی پُل" کہا جا رہا ہے، تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
اس تجویز کے تحت امریکا، ایران میں ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے لیے پاور ری ایکٹرز کی تعمیر میں مدد دے گا۔ ایران کو جیسے ہی ان سہولیات سے فائدہ حاصل ہونا شروع ہوگا، اسے اپنے ملک میں ہر قسم کی یورینیم افزودگی بند کرنا ہوگی۔
یہ خفیہ تجویز گزشتہ ہفتے ایران کو پیش کی گئی، تاہم فی الحال ایران کی جانب سے باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔ ایرانی حکام کے مطابق چند دن میں موقف دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ یا ناانصافی کے آگے نہیں جھکے گا اور اپنے جوہری حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران کو
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔