امریکا کا یوٹرن؟ ایران کو یورینیم افزودگی کی مشروط اجازت دینے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
واشنگٹن : امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک نئی عبوری تجویز پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت ایران کو کم سطح پر یورینیم کی افزودگی کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
یہ تجویز امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کو ایک "سفارتی پُل" کہا جا رہا ہے، تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
اس تجویز کے تحت امریکا، ایران میں ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے لیے پاور ری ایکٹرز کی تعمیر میں مدد دے گا۔ ایران کو جیسے ہی ان سہولیات سے فائدہ حاصل ہونا شروع ہوگا، اسے اپنے ملک میں ہر قسم کی یورینیم افزودگی بند کرنا ہوگی۔
یہ خفیہ تجویز گزشتہ ہفتے ایران کو پیش کی گئی، تاہم فی الحال ایران کی جانب سے باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔ ایرانی حکام کے مطابق چند دن میں موقف دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ یا ناانصافی کے آگے نہیں جھکے گا اور اپنے جوہری حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران کو
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔