متحدہ عرب امارات نے 222 شہریوں کے کل 139 ملین درہم کے قرضے معاف کردیے
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
متحدہ عرب امارات کے صدر نے 222 شہریوں کے ڈی ایچ 139 ملین کے قرض معاف کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات اس سال 10 لاکھ ملازمتیں فراہم کرے گا
گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق اقدام پائیدار ترقی کے لیے متحدہ عرب امارات کے جامع وژن کے اندر آتا ہے۔
نیشنلز ڈیفالٹڈ ڈیبٹس اسیٹلمنٹ فنڈ نے 222 اماراتی شہریوں کو 139 ملین درہم کے قرضوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔ یہ اقدام صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، نائب صدر شیخ منصور بن زاید آل نہیان اور وزیر اعظم شیخ منصور بن زاید آل نہیان کی ہدایات کے مطابق کیا گیا۔
یہ اقدام اماراتی شہریوں کو درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے اور ملک بھر میں سماجی بہبود اور معاشی استحکام کو فروغ دینے کے لیے قیادت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ایک بیان میں فنڈ نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ اقدام متحدہ عرب امارات کی دانشمندانہ قیادت کے شہریوں کی حمایت، ان کی باوقار اور مستحکم زندگی کو یقینی بنانے اور وسیع تر سماجی ترقی میں حصہ ڈالنے کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مقصد ریٹائر ہونے والوں اور سماجی تحفظ سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے مالی بوجھ کو کم کرنا اور ان کے معیار زندگی اور خاندانی استحکام کو بڑھانا ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
یہ اقدام پائیدار ترقی کے لیے متحدہ عرب امارات کے جامع وژن کے تحت آتا ہے جو کہ قوم کی خدمت کرنے والوں اور سب سے زیادہ ضرورت مندوں کے لیے تعاون کو ترجیح دے کر ایک مربوط، خوشحال معاشرے کو فروغ دینے کی کوشش کررہا ہے۔
اس فیصلے سے پینشنرز کے زمرے سے تعلق رکھنے والے 132 شہریوں کو فائدہ ہوگا جن کے مجموعی قرضے 86.
فنڈ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام صدر کے شہریوں کے مالی بوجھ کو کم کرنے کے عزم اور قوم کے لوگوں کے لیے باوقار حالات زندگی کو یقینی بنانے کے لیے ان کے دانشمندانہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں روزگار کی تلاش میں جانے والوں سے متعلق نئے قوانین کیا ہیں؟
اس کا مقصد ان کے معیار زندگی کو بڑھانا، خاندانی اور سماجی استحکام کی حمایت کرنا اور اماراتی معاشرے کی تعریف کرنے والی یکجہتی اور باہمی تعاون کی اقدار کو برقرار رکھنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امارات قرضے امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اماراتی شہریوں کے قرضے معاف متحدہ عرب امارات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امارات قرضے امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اماراتی شہریوں کے قرضے معاف متحدہ عرب امارات متحدہ عرب امارات کے شہریوں کے شہریوں کو ملین درہم یہ اقدام زندگی کو بن زاید کے لیے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب