پاکستان کی 44.7 فیصد آبادی غربت کا شکار؛ عالمی بینک
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
سٹی 42:عالمی بینک نے پاکستان میں غربت سے متعلق رپورٹ جاری کردی
عالمی بینک کاکہنا ہے کہ پاکستان میں شدید غربت کی نئی حد 3 ڈالرز یومیہ مقرر کی گئی تھی ، پاکستان کی 16.5 فیصد آبادی خط غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی اس سے قبل شدید غربت کی حد 2.15 ڈالر روزانہ طے کی گئی تھی ۔لوئر مڈل انکم کلاس کے لیے غربت کی حد 4.
اپر مڈل انکم کلاس کے لیے غربت کی حد 8.30 ڈالرز یومیہ مقرر کی گئی ،پاکستان کی 88.4 فیصد آبادی اپر مڈل انکم کلاس میں داخل ہوگئی ،غربت کی حد کے تازہ اعداد و شمار 2021 کی قوت خرید کے ڈیٹا پر تیار کیے گئے،پاکستان میں غربت کی قومی شرح کے اعداد و شمار کو تبدیل نہیں کیا گیا ،
کل کی سرکاری چھٹی منسوخ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستان کی غربت کی حد مڈل انکم کی گئی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔