عید پر صحیح جانور چننا بچوں کا کھیل نہیں، جرمن سفیر ایلفرڈ گرانیس
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان میں تعینات جرمنی کے سفیر ایلفرڈ گرانیس نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے دلچسپ اور دوستانہ انداز میں کہا ہے کہ عید پر صحیح جانور چننا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔
سفیر نے عید کے دوران اپنے سیکیورٹی گارڈز کی خوشی کیلئے مویشی منڈی کا دورہ کیا تاکہ ان کے لیے دُنبے خریدے جا سکیں۔ اس موقع پر انہوں نے قربانی کے جانور چننے کے تجربے کو دلچسپ مگر مشکل قرار دیا۔
ایلفرڈ گرانیس نے نہ صرف مویشی منڈی کا چکر لگایا بلکہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر پاکستانی ثقافت، مذہبی روایات اور بھائی چارے کی فضا کو بھی خوب سراہا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی امت مسلمہ اور قوم کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ عید قربان کی روح کو سمجھنا اور دوسروں کیلئے خوشی کا سامان کرنا ایک قابل قدر جذبہ ہے اور پاکستان میں اس کا خوبصورت مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔
واضح رہے کہ آج 7 جون بروز ہفتہ پاکستان بھر میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ نماز عید کے بعد سنتِ ابراہیمیؑ کی پیروی میں جانوروں کی قربانی کا سلسلہ جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔