ترکیہ: قربانی کے جانور ذبح کرنے کے دوران 14 ہزار افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
ترکیہ میں عیدالاضحیٰ کے پہلے دن جانوروں کی قربانی کے دوران 14 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: قربانی کا جانور خود ذبح کرنا ہے تو کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
وزیر صحت کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز عید کے پہلے دن ملک بھر میں 14 ہزار 372 افراد زخمی حالت میں اسپتالوں میں لائے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ انقرہ میں ایک ہزار 49، استنبول میں 753 اور کونیا میں 655 افراد جانور ذبح کرتے وقت زخمی ہوئے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی صورتحال سے بچیں اور ذبیحے کے دوران ماہر قصائیوں کی مدد حاصل کریں۔
مزید پڑھیے: عید الاضحیٰ پر قربانی سے لیکر کھانے پکانے تک کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
ترک میڈیا کے مطابق پچھلے سال ترکیہ میں عیدالاضحیٰ پر قربانی کے دوران تقریباً 16 ہزار جبکہ سال 2023 میں تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ترکیہ میں اموات ترکیہ میں ذبیحے کے دوران اموات ترکیہ میں عید پر اموات عیدالاضحیٰ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عیدالاضحی افراد زخمی ترکیہ میں کے دوران
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔