تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ؛ حتمی منظوری آج شام ہو گی
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
سٹی42: پاکستان کے سرکاری اور نجی ملازموں کو خوشخبری دینے کے لئے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس کل منگل کے روز ہو گا۔
نئے مالی کے بجٹ کی قومی اسمبلی مین پیش کرنے سے پہلے حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس کل طلب کرلیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نئے مالی سال کے لیے بجٹ تجاویز کی منظوری دے گی، وفاقی کابینہ سے فنانس بل کی منظوری لے کر قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا جائے گا۔
نیشنل اکیڈمی کو جدید بنانا میرا سب سے بڑا مقصد ہے: عاقب جاوید
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے سے متعلق تجاویز کو آج پیر کے روز ہی فائنل شکل دے لی گئی ہے۔ اب پارلیمنٹ میں لے جانے سے پہلے تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس کل سہ پہر چار بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔ اس اجلاس کے کچھ دیر بعد وفاقی وزیر خزانہ اورنگ زیب قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بجٹ تقریر کریں گے۔ اپنی تقریر مین وہ بجٹ کے تمام بنیادی خدوخال اور اہم تجاویز کا خلاصہ پیش کریں گے۔
نان رجسٹرڈ ریسٹورنٹس اور شادی ہالز سے متعلق حکومتِ پنجاب کا بڑا فیصلہ
سرکاری ملازموں کی تنخواہوں مین اضافہ کے متعلق مصدقہ رپورٹ کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 5 سے ساڑھے 7 فیصد تک اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔ دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بجٹ 2025-26 میں سرکاری ملازمین کیلئے حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی ہدایات کو نظر انداز کر کے میکسیمم ریلیف پیکیج دیا جا رہا ہے۔
ماورا حسین اور امیر گیلانی کی عید کی خوشیاں، غم میں بدل گئیں
آئی ایم ایف نے پاکستان کی بیلنس شیٹ کو سامنے رکھ کر تجویز کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں مین زیادہ سے زیادہ سات ساڑھے سات فیسد تک اضافہ کیا جائے۔ آئی ایم ایف کا استدلال ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران مہنگائی اور افراط زر کم ہوئی ہے، آنے والے مہینوں میں افراط زر مزید کم ہونے کا امکان ہے، اس تناطر میں تنخواہوں میں سات فیسد اضافہ کافی ہو گا۔
پاکستان کی وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر لیدر اس بات پر متفق ہیں کل سات فیسد اضافہ کافی نہیں ،عوام کو میکسیمم ریلیف دیا جانا ضروری ہے کیونکہ عوام نے اس حکومت کا اب تک ایک بھی بجٹ ایسا نہیں دیکھا جس سے انہیں سکھ کا سانس آیا ہو۔ اب چونکہ ملک کی مالیاتی صورتحال تسلی بخش ہے تو اس کا کچھ فائدہ عوام کو بھی ہونا چاہئے۔ وفاقی حکومت نے طے کیا ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ 10 فیسد ہی ہو گا، آئی ایم ایف کے حکام کے ساتھ وفاقی وزارت خزانہ کی ٹیم خود معاملات کو مینیج کرے گی.
کولمبیا میں 6.3 شدت کا زلزلہ سے سڑکوں پر دراڑیں، عمارتیں زمین بوس
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کیلئے 30 فیصد ڈسپیئرٹی الاؤنس کی تجویز ہے۔
ذرائع نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے، 2022 کے ایڈہاک الاؤنس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔
وفاقی بجٹ کے بعد صوبائی حکومتیں بھی اپنے اپنے بجٹ پیش کریں گی، جس کے ساتھ ہی ملک میں مالی سال 2025-26 کے لیے معاشی حکمت عملی کا باضابطہ آغاز ہو جائے گا۔
ہم وفاق کو بھی قرضہ دے سکتے ہیں: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین وفاقی کابینہ تنخواہوں میں کی تنخواہوں ا ئی ایم ایف ملازمین کی کی تجویز
پڑھیں:
ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
سعودی عرب نے ویژن 2030 کے تحت گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران نہ صرف معیشت کو متنوع بنانے میں نمایاں پیش رفت کی بلکہ روزگار، خواتین کے بااختیار بنانے، صحت، رہائش، کھیل، ثقافت اور نوجوانوں کی ترقی سمیت سماجی شعبوں میں بھی غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق مملکت اب ایک مضبوط معیشت کے ساتھ ایک جدید اور متحرک معاشرے کی تشکیل کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔
اپریل 2016 میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ویژن 2030 کے آغاز کے بعد سعودی عرب نے اقتصادی، مالی، انتظامی اور سماجی اصلاحات کے ذریعے ایک نئی ترقیاتی راہ اختیار کی۔ گزشتہ تقریباً 10 برس کے دوران مملکت نے نہ صرف بڑے اقتصادی اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے بلکہ عالمی سطح پر اپنی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی حیثیت بھی مزید مستحکم کی۔
یہ بھی پڑھیے ویژن 2030: سعودی عرب نے سماجی و معاشی ترقی کے بیشتر اہداف قبل از وقت حاصل کر لیے
ابتدائی برسوں میں عالمی توجہ زیادہ تر اقتصادی تنوع اور میگا پراجیکٹس پر مرکوز رہی، تاہم اب ویژن 2030 کا سب سے نمایاں پہلو سعودی معاشرے میں آنے والی وسیع سماجی تبدیلیاں بن چکی ہیں، جنہوں نے شہریوں کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔
تازہ ترین ویژن 2030 سالانہ رپورٹ کے مطابق معیارِ زندگی، روزگار، گھروں کی ملکیت، کھیل، ثقافت، سماجی شمولیت اور ترقی کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ویژن 2030 صرف نئی معیشت نہیں بلکہ ایک نئے سعودی معاشرے کی بھی تشکیل کر رہا ہے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ویژن 2030 کے آغاز پر نوجوانوں کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی نوجوان ہی مستقبل کی ضمانت ہیں، اسی لیے حکومتی سرمایہ کاری کا بنیادی مرکز نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور مہارتوں کی ترقی ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔
روزگار اور انسانی ترقی میں نمایاں کامیابیاںرپورٹ کے مطابق 2025 تک نجی شعبے میں کام کرنے والے سعودی شہریوں کی تعداد 17 لاکھ سے بڑھ کر 26 لاکھ ہو گئی، جبکہ قومی بے روزگاری کی شرح 2016 کے 12.3 فیصد سے کم ہو کر 7.2 فیصد رہ گئی، جو مقررہ ہدف سے بھی بہتر کارکردگی ہے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) بھی روزگار کے بڑے ذریعہ بن کر سامنے آئے ہیں، جہاں ملازمتوں کی تعداد 88 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی، جو 2025 کے ہدف سے بھی زیادہ ہے۔
خواتین کی شمولیت میں تاریخی اضافہویژن 2030 کے تحت خواتین کی معاشی شرکت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 22.8 فیصد سے بڑھ کر 35 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 2030 کا ہدف 40 فیصد مقرر ہے۔
یہ کامیابی بچوں کی نگہداشت، لچکدار ملازمتوں، بہتر ٹرانسپورٹ، اور خواتین کے لیے نئے شعبے کھولنے جیسی حکومتی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب 43.9 فیصد درمیانی اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں۔
خصوصی افراد کے لیے بھی بہتر مواقعکام کرنے کی صلاحیت رکھنے والے خصوصی افراد کی ملازمت کی شرح 14.7 فیصد تک پہنچ گئی، جو مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔ اس پیش رفت میں دفاتر میں رسائی بہتر بنانے اور آجر اداروں کی حوصلہ افزائی نے اہم کردار ادا کیا۔
انسانی ترقی اور رضاکارانہ خدماتسعودی عرب کا ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (HDI) بڑھ کر 0.900 ہو گیا، جو 2025 کے ہدف سے بھی بہتر ہے۔
ملک میں رضاکارانہ خدمات کا رجحان بھی تیزی سے فروغ پایا، جہاں 17 لاکھ 49 ہزار رضاکار سرگرم عمل ہیں، جبکہ 2030 کا ہدف صرف 10 لاکھ تھا، جو 5 سال پہلے ہی حاصل کر لیا گیا۔
کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کے پروگرام چلانے والی بڑی کمپنیوں کا تناسب 30 فیصد سے بڑھ کر 76.83 فیصد ہو گیا، جبکہ غیر منافع بخش شعبے کا مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں حصہ 0.2 فیصد سے بڑھ کر 1.4 فیصد تک پہنچ گیا۔
نوجوانوں کی مہارتوں پر خصوصی توجہسعودی حکومت نے نوجوانوں کے لیے تعلیم، فنی تربیت، انٹرن شپ، کاروباری معاونت اور کیریئر ڈویلپمنٹ کے متعدد پروگرام شروع کیے۔
فنی و پیشہ ورانہ تعلیم مکمل کرنے والے 47.41 فیصد طلبہ کو 6 ماہ کے اندر ملازمت مل رہی ہے، جبکہ جامعات اور صنعتوں کے درمیان 90 سے زائد شراکتی پروگرام شروع کیے جا چکے ہیں۔
میڈیا انڈسٹری کے لیے بھی نیا میڈیا اسکالرشپ پروگرام متعارف کرایا گیا ہے۔
گھروں کی ملکیت میں نمایاں اضافہویژن 2030 کے ہاؤسنگ پروگرام کے تحت رہائشی قرضوں، تعمیراتی منصوبوں اور نئے خریداروں کی معاونت کے باعث گھروں کی ملکیت کی شرح 66.24 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2025 کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔
صحت اور معیارِ زندگی میں بہتری2024 میں اوسط عمر 79.7 سال تک پہنچ گئی، جبکہ 97.5 فیصد آبادی کو صحت کی سہولتیں میسر آ چکی ہیں۔
فی ایک لاکھ آبادی پر نرسوں کی تعداد 581.6 سے بڑھ کر 863.4 ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعدی بیماریوں سے اموات میں 50 فیصد کمی آئی۔ دائمی بیماریوں سے اموات میں 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اقوام متحدہ کے اہداف سے بھی بہتر ہے۔ 70 فیصد سرطان کے کیسز ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو رہے ہیں، جس سے علاج کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کھیلوں اور صحت مند طرزِ زندگی کا فروغسعودی پرو لیگ، فارمولا ون سعودی گراں پری اور 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی جیسے منصوبوں نے سعودی عرب کو عالمی کھیلوں کا اہم مرکز بنا دیا ہے۔
2025 میں ریاض میں ہونے والے ای اسپورٹس ورلڈ کپ میں 30 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے جبکہ ٹکٹوں کی فروخت میں 53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
متعدد کھیلوں کی سہولت رکھنے والے کلبوں کی تعداد 9 سے بڑھ کر 133 ہو گئی، جبکہ خواتین کی کھیلوں میں شرکت بھی نمایاں طور پر بڑھی۔ ریاض میراتھن میں شرکت کرنے والی خواتین کی تعداد 3,500 سے بڑھ کر 15 ہزار تک پہنچ گئی۔
تفریح، ثقافت اور سیاحت میں ترقیجنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے تحت ملک بھر میں تفریحی سرگرمیوں، تھیٹر، سینما، کنسرٹس اور ثقافتی پروگراموں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
2025 میں سکس فلیگز قدیہ سٹی کا افتتاح کیا گیا جبکہ JAX فلم اسٹوڈیوز کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جو سعودی فلمی صنعت میں اہم سرمایہ کاری تصور کیا جا رہا ہے۔
سیاحت کے فروغ کے لیے ای ویزا نظام نے بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ سعودی عرب کے 17 ریستوران اب مشیلن گائیڈ میں شامل ہو چکے ہیں۔
ثقافتی ورثے کا تحفظجدید ترقی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے اپنے تاریخی، ثقافتی اور اسلامی ورثے کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔
مملکت کے 8 تاریخی مقامات اب یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں، جو 2030 کا ہدف پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں۔
2025 میں بیرون ملک سے آنے والے عمرہ زائرین کی تعداد ایک کروڑ 80 لاکھ 30 ہزار تک پہنچ گئی، جو مقررہ ہدف سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ مکہ روٹ انیشی ایٹو کے ذریعے 12 لاکھ عازمین کو سہولت فراہم کی گئی۔
مستقبل کا لائحۂ عملرپورٹ کے مطابق ویژن 2030 کے اگلے مرحلے میں روزگار، رہائش، صحت، تعلیم، کھیل، ثقافت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں مزید پیشرفت پر توجہ دی جائے گی تاکہ مملکت کا ہر شہری اور رہائشی ترقی کے ثمرات سے یکساں طور پر مستفید ہو سکے۔
ویژن 2030 کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف اقتصادی اشاریے نہیں بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیاں، بہتر ملازمتیں، معیاری رہائش، بہتر صحت اور ایک متحرک و خوشحال معاشرہ ہے، جس کی تعمیر سعودی عرب تیزی سے کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی وژن 2030 سعودی ولی عہد محمد بن سلمان