مکھن کا استعمال کن دائمی بیماریوں کے خطرات کم کرتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سائنسدانوں کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق مکھن کا استعمال دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر روزانہ کم از کم پانچ گرام مکھن استعمال کیا جائے تو ٹائپ 2 ذیابیطس اور قلبی امراض کے خطرات میں تقریباً ایک تہائی کمی آ سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق مکھن جسم میں مفید کولیسٹرول کی سطح بڑھاتا ہے، جبکہ نقصان دہ چکنائی، جو خون کی شریانوں کو بند کرکے ہارٹ اٹیک اور فالج جیسی بیماریوں کا باعث بنتی ہے، اس کی مقدار کو گھٹاتا ہے۔
یہ تحقیق امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی کے محققین نے کی ہے، اور اس کے نتائج ان پرانی تحقیقات کو چیلنج کرتے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سیر شدہ چکنائی دل کی مہلک بیماریوں کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مارجرین، جسے کبھی مکھن کا ’صحت مند‘ متبادل سمجھا جاتا تھا، اس کے بالکل الٹ اثرات رکھتا ہے۔ مارجرین کے استعمال سے ذیابیطس کا خطرہ 40 فیصد اور دل کے امراض کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے غیر قانونی استعمال اور فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قابلِ سزا جرم ہے، کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو سکتی ہے، جس کی قانونی ذمہ داری بھی سم ہولڈر پر عائد ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کی باقاعدگی سے جانچ کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز یا غیر ضروری سم کی بروقت نشاندہی کرکے اسے بلاک کرایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ اگر کسی صارف کے نام پر ایسی سم رجسٹرڈ ہو جس کے بارے میں وہ لاعلم ہو یا جس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے بند کرایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکا دہی یا غیر قانونی استعمال سے بچا جا سکے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ نئی سم ہمیشہ متعلقہ موبائل کمپنی کی مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کی جائے اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم رجسٹرڈ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا کہ "مفت سم" یا دیگر پرکشش پیشکشوں کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہ کرائیں، کیونکہ دھوکے باز عناصر اس عمل کے ذریعے آپ کے نام پر اضافی سمز جاری کرا سکتے ہیں، جو بعد ازاں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہو سکتی ہیں۔پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ موبائل استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔