وزیر خزانہ نے کسانوں کو بڑی خوشخبری سنادی
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل گورننس کے حوالے سے پاکستان کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے، ایکسپورٹس کو بڑھانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، 95 ہزار سے زائد ایس ایم ایز کو مالی امداد فراہم کی گئی، 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ کو 1100 ارب تک پہنچانے کا عزم ہے۔
ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنا اہم ترجیح ہے، 99 لاکھ مستحق خاندانوں کو امداد فراہم کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سماجی اور اقتصادی ترقی کی سکیموں کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ دو سالوں میں ترسیلات زر کے حجم میں اضافہ ہوا ہے، خصوصی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے ذریعے ہر سال سول ایوارڈز دیئے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ چھوٹے کسان کو قرض فراہم کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں، چھوٹے کسانوں کو بغیر ضمانت کے ایک لاکھ کے قرضے فراہم کریں گے۔ کپاس کی فصل کی بحالی کے لئے مربوط کوششیں کی گئی ہیں۔
وزیرخزانہ نے بتایا کہ نیشنل سیڈ پالیسی منظور کے آخری مراحل میں ہے۔ ایس آئی ایف سی نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
مزیدپڑھیں:بجٹ 26-2025 پیش، سولرپینلز کی درآمدات پر 18فیصد ٹیکس کی تجویز، دفاع کیلئے2 ہزار 550 ارب روپے مختص
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔