پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی نے بجٹ 2025-2026ء کو آئی ایم ایف کا قرار دے کر مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی کا کہنا تھا کہ غریب غربت کی چکی میں پس رہے ہیں حکمرانوں کی عیاشیاں ختم نہیں ہو رہیں، بجٹ سیشن میں ہر موقع پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا جبکہ اجلاس میں پیٹرن انچیف پر جعلی مقدمات اور سیاسی انتقام کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ختم ہو گیا۔ اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کردیا گیا، پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے بجٹ 2025/26ء کو مسترد کردیا اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پی ٹی آئی نے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے کہا کہ موجودہ حکومت جعلی ہے بجٹ پیش کرنے کا اختیار نہیں، انہوں نے بجٹ کو آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی کے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ کمیٹی نے اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی کے رویے کی مذمت کی، سپیکر قومی اسمبلی جانبدار بن چکے ہیں، سردار ایاز صادق پارٹی کے نمائندے نہ بنیں سپیکر بنیں۔ اعلامیہ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی کا کہنا تھا کہ غریب غربت کی چکی میں پس رہے ہیں حکمرانوں کی عیاشیاں ختم نہیں ہو رہیں، بجٹ سیشن میں ہر موقع پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا جبکہ اجلاس میں عمران خان پر جعلی مقدمات اور سیاسی انتقام کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔
علاوہ ازیں پارلیمانی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ قائدین کی رہائی کے لیے مربوط حکمت عملی طے کی جائے گی، سپیکر اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ارکان کی تقاریر براہ راست دکھانے کا معاملہ اٹھائیں گے، پی ٹی آئی ارکان کی تقاریر کی نشریات پر ایوان میں معاملہ اٹھایا جائے گا۔
اعلامیہ میں مزید یہ بھی بتایا گیا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ پی ٹی آئی کی تقاریر نشر نہ کرنے پر تحریک استحقاق اور سپیکر کے خلاف احتجاج کیا جائے گا، قومی نشریاتی ادارے اگر تقریر نہیں نشر کرتے تو احتجاج کیا جائے گا، اس موقع پر پی پی 52 سمبڑیال ضمنی الیکشن میں دھاندلی کی مذمت بھی کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی احتجاج کیا جائے گا قومی اسمبلی اجلاس میں کمیٹی نے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز