پی ٹی آئی نے وفاقی بجٹ 2025 آئی ایم ایف کا قرار دے کر مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے بجٹ 2025/26 کو مسترد کردیا ۔
اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ختم ہونے پر اعلامیہ جاری کیاگیا جس میں کہا کہ موجودہ حکومت جعلی ہے بجٹ پیش کرنے کا اختیار نہیں، انہوں نے بجٹ کو آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی کےاعلامیہ میں بتایا گیا کہ کمیٹی نے اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی کے رویے کی مذمت کی، اسپیکر قومی اسمبلی جانبدار بن چکے ہیں،سردار ایاز صادق پارٹی کے نمائندے نہ بنیں اسپیکر بنیں۔
اعلامیہ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی کا کہنا تھا کہ غریب غربت کی چکی میں پس رہے ہیں حکمرانوں کی عیاشیاں ختم نہیں ہورہیں، بجٹ سیشن میں ہر موقع پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا جبکہ اجلاس میں عمران خان پر جعلی مقدمات اور سیاسی انتقام کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔
علاوہ ازیں پارلیمانی کمیٹی نےفیصلہ کیا کہ قائدین کی رہائی کے لیے مربوط حکمت عملی طے کی جائے گی،اسپیکر اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ارکان کی تقاریر براہ راست دکھانے کا معاملہ اٹھائیں گے ، پی ٹی آئی ارکان کی تقاریر کی نشریات پر ایوان میں معاملہ اٹھایا جائے گا۔
اعلامیہ میں مزید یہ بھی بتایا گیا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ پی ٹی آئی کی تقاریر نشر نہ کرنے پر تحریک استحقاق اور اسپیکر کے خلاف احتجاج کیا جائے گا، قومی نشریاتی ادارے اگر تقریر نہیں نشر کرتے تو احتجاج کیا جائے گا، اس موقع پر پی پی 52 سمبڑیال ضمنی الیکشن میں دھاندلی کی مذمت بھی کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پارلیمانی کمیٹی پی ٹی ا ئی جائے گا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔