بیدردی سے قتل کی جانے والی ٹک ٹاکر ثنا یوسف نے کس ڈرامے میں کام کیا تھا؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام آباد میں اپنے گھر کے اندر قتل ہونے والی معروف ٹک ٹاکر ثنا یوسف نے ایک ڈرامے میں بھی کام کیا تھا۔
17 سالہ ثنا یوسف کے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر فالورز کی تعداد لاکھوں میں تھیں۔ ان کی زیادہ تر ویڈیوز میں سادگی، برجستگی، مزاح اور عمومی مسائل پر گفتگو ہوا کرتی تھی۔
ثنا یوسف اپنی ویڈیوز میں ہر وقت ہنستی مسکراتی نظر آتی تھیں۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنی سادگی کی وجہ سے بھی کافی مقبول تھیں۔
مقتولہ ثنا یوسف کی ویڈیوز دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس چھوٹی سی بچی میں ایک اداکارہ بھی چھپی ہوئی ہے۔
جس کا ثبوت اس وقت ملا جب سوشل میڈیا پر ایک ڈرامے ’وہ ضدی سی‘ کی چند تصاویر وائرل ہوئیں۔ جن میں چائلڈ اسٹار عینا آصف کے ساتھ ثنایوسف بھی چند مناظر میں نظر آ رہی ہیں۔
اس ڈرامے میں عینا آصف نے علی عباس کی بیٹی کا کردار ادا کیا تھا جب کہ ثنا یوسف نے ان کی ہم جماعت سہیلی کا کردار نبھایا تھا۔
یہ تصاویر وائرل ہوئیں تو سوشل میڈیا صارفین نے ایک بار پھر اس افسوسناک واقعے پر دلی رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سماج ایک باصلاحیت لڑکی سے محروم ہوگیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ثنا یوسف
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔