سینکڑوں انسانی حقوق کے کارکنوں کا قافلہ غز ہ کی مدد کیلئے لیبیا پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
لیبیا(اوصاف نیوز)سینکڑوں انسانی حقوق کارکن اور غزہ میں زیر محاصرہ جنگ زدہ فلسطینیوں کے حامی شہریوں کا قافلہ تیونس کی سرحد کو عبور کر کے لیبیا میں داخل ہو گیا ہے۔
اس قافلے میں زیادہ تر تعداد تیونس کے شہریوں کی ہے۔ یہ قافلہ کئی بسوں پر مشتمل ہے۔قافلے کے ایک منتظم کے مطابق ان شرکاء کی تعداد ایک ہزار تک ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ کارکن راستے میں بڑھتے جائیں۔ قافلہ پیر کی صبح تیونس سے روانہ ہوا تھا۔
قافلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ کوئی امدادی سامان لے کر نہیں جا رہے کیونکہ بسوں اور قافلے میں شامل دیگر گاڑیوں پر امدادی سامان نہیں لے جایا جا سکتا۔
ہمارا مقصد غزہ کے محاصرے کے خلاف آواز بلند کرنا ہے اور عالمی برادری کی اس جانب توجہ مبذول کرانی ہے کہ غزہ کے جنگ زدہ لوگوں کے ساتھ سخت غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا ہے۔
یاد رہے اس قافلے میں 14 بسوں کے علاوہ ایک سو کے قریب دیگر گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ قافلے کے ارکان ‘مزاحمت مزاحمت’ کے نعرے لگاتے ہوئے سنے گئے۔
قافلے کے ترجمان نے ‘ایف ایم ریڈیو چینل’ سے بات کرتے ہوئے کہا ‘قافلے کا لیبیا میں زیادہ دیر رکنے کا منصوبہ نہیں ہے۔ لیبیا میں تین یا چار دن کے سفر کے بعد یہ قافلہ مصر میں داخل ہوجائے گا۔ جہاں سے رفح راہداری تک پہنچے گا۔’
قافلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ابھی تک مصر میں داخلے کی اجازت کے حوالے سے مصری حکام نے آگاہ نہیں کیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہمارے قافلے کا مقصد غزہ کے محاصرے کے خلاف علامتی طور پر آواز بلند کرنا ہے۔ جسے اقوام متحدہ نے زمین پر سب سے زیادہ بھوک زدہ جگہ قرار دیا ہے۔ اس قافلے میں الجیریا، موریطانیہ، مراکش اور لیبیا سے بھی انسانی حقوق کے کارکن اور شہری شامل ہوئے ہیں۔
اہم بات ہے کہ یہ قافلہ اس روز تیونس سے روانہ ہوا ہے جب پیر کی صبح اسرائیلی فوج نے سمندر میں ‘فریڈم فلوٹیلا’ کے سوار انسانی حقوق کارکنوں کو گریٹا تھنبرگ کی قیادت میں آنے پر گرفتار کر لیا۔ جسے تھنبرگ نے اغوا قرار دیا۔
ان کارکنوں میں سے 5 فرانسیسی کارکن اب بھی اسرائیلی حراست میں ہیں کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر اسرائیل سے ڈی پورٹ ہونے پر انکار کر دیا تھا۔
پنجاب حکومت کا مالی سال26-2025کے لیے تاریخ ساز ترقیاتی بجٹ دینے کا فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔