Daily Ausaf:
2026-06-03@02:24:53 GMT

بارود اور دلیل کا چراغ

اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
حالیہ پاک بھارت جنگ میں اسرائیل پاکستان کے خلاف جنگی طورپرسرگرم ہوگیاہے، اسرائیلی ہاروپ ڈرون اورمیزائل حملے ناقابلِ برداشت اقدامات ہیں، اسرائیل کے اتحادیوں کے لئے یہ وضاحت ضروری ہے پاکستان اس امرکوبراہِ راست پاکستان پرحملہ سمجھتا ہے توپاکستان کونہ صرف دفاع کاقانونی حق حاصل ہے بلکہ امتِ مسلمہ کی غیرت بھی اس کاتقاضاکرتی ہے کہ وہ اپنے دفاع میں ہرممکن اقدام کرے۔اوراگرعالمی برادری نے خاموشی اختیارکی،تواس خاموشی کی قیمت پوری دنیا کوچکانی پڑے گی۔اب وقت ہے کہ پاکستان نہ صرف آواز بلندکرے بلکہ اپنے دفاع میں جرات وحکمت کا مظاہرہ بھی کرے۔
بھارت اورپاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ اگربھارتی دہشت گردی اورپاکستان کے اندر مداخلت کاسلسلہ نہ رکاتو یہ تصادم مکمل جنگ میں بدل سکتاہے،جس کاانجام ایٹمی تصادم کی صورت میں ہوسکتاہے۔یہ جنگ صرف دونوں ممالک کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیاکے لئے تباہ کن ثابت ہوگی۔
اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق،کوئی بھی ریاست دوسرے ملک کی سالمیت میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ اقوام متحدہ کوبھارت کے خلاف آزادانہ تحقیقات کرانی چاہیے اورشواہدکی بنیاد پربھارت پرپابندیاں عائدکرنی چاہئیں۔مزید برآں جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے لئے عالمی طاقتوں امریکا،چین،روس،برطانیہ کوثالثی کاکردار اداکرناچاہیے۔ان ممالک کودوہرا معیارترک کرکے انصاف پرمبنی خارجہ پالیسی اپنانا ہو گی۔ اگر دنیادہشتگردی کے خلاف ہے تواسے ریاستی دہشت گردی کے خلاف بھی اتناہی سخت مقف اپناناہوگا جتناغیرریاستی عناصر کے خلاف اپنایاجاتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ پاکستان محض ردعمل کی پالیسی سے نکل کرفعال حکمتِ عملی اپنائے۔دشمن صرف سرحدوں پرنہیں بلکہ میڈیا، پانی،فکر،اورمعیشت پرحملہ آور ہے۔ اس کے جواب میں صرف بندوق نہیں بلکہ قلم، عقل اور صداقت کی ضرورت ہے۔اگرپاکستان بین الاقوامی فورمز پر موثرانداز میں مقدمہ لڑے توعالمی برادری بھارت کی عسکری وآبی جارحیت کوسنجیدگی سے لے سکتی ہے۔ بھارت کی داخلی بدحالی اگرشدت اختیارکرے توعالمی برادری کواپنی پالیسی پرنظرثانی کرنی پڑے گی۔پاکستان اپنی سابقہ روش کوتبدیل کرتے ہوئے اپنی پالیسی سازی میں تدبرمگردفاعی تیاری میں کوئی کوتاہی نہ ہونے دے۔علم و معیشت کوترجیح دی جائے تاکہ دشمن کوصرف ہتھیارسے ہی نہیں،بلکہ فکروفراست سے شکست دی جائے۔ سفارت کاری کوفعال اورحقیقت پسندبنایاجائے تاکہ بیرونِ ملک پاکستان کے بیانئے کواس کے صحیح تناظرمیں سمجھاجائے کہ خطے میں بھارت عالمی امن کاسب سے بڑادشمن ہے۔ امریکا،برطانیہ،فرانس نے زیادہ تربیانات تک خودکومحدودرکھاہے۔روس کی غیر جانبداری سے بھارت کو خاموش حمائت ملی ہے کیونکہ بھارت اب بھی روسی اسلحہ کاایک بڑاخریدار ہے اوربالخصوص یوکرین کی جنگ میں مغربی پابندیوں کے باوجودروس سے ایک بڑی مقدارمیں پٹرول کابھی خریدارہے۔
ان حالات میں پاکستان کواپنی علمی، سائنسی اورسفارتی طاقت بڑھانے کی فوری ضرورت ہے۔ بھارت کی عسکری جارحیت کو جہاں مکمل اورمضبوط عسکری تیاری کے ساتھ بلکہ فکری مزاحمت،معاشی استحکام،اورعالمی قانون کے ذریعے بھی روکا جائے ۔ میڈیااورسفارت کاری کے میدان میں بھارت کے جھوٹ کاپردہ چاک کرناضروری ہے۔قومی بیانیے کو صرف جنگی نہیں،تعلیمی، تحقیقی اور اخلاقی بنیادوں پربھی استوارکیاجائے تاکہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں جس طرح پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیواربن کرسامنے آئی ہے ، اس جذبے کومستقل بنیادوں پراستوارکرنے کے لئے سیاسی انارکی کوختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔
جہاں جنگ کی صدائیں سنائی دے رہی ہوں، وہاں امن کی صداسب سے بلندہونی چاہیے۔عالمی طاقتوں کافرض ہے کہ بھارتی قیادت کودوٹوک پیغام دیاجائے کہ نفرتوں کے دھوئیں سے باہرنکل کرعقل وتدبر کے نورسے کام لے کہ اس کی ہٹ دھرمی کی بناپر جہاں اس کوتاریخ کاقلم اورآنے والی نسلیں کبھی بھی اسے معاف نہیں کریں گی وہاں اسے عالمی پابندیوں میں جکڑکرسخت سزا دی جائے،یقینااس عمل کے بعدوہ کبھی بھی دنیاکے امن کوغارت کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔
یادرہے کہ بھارت سے امن اورعلم دوستی کی امیدرکھنافی الحال خودکودھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ ایسادشمن جواپنے ہی شہریوں کی بھوک، افلاس، بیماری اوراحتجاج کوبندوق سے دباتاہے، اس سے کوئی کیسے امیدرکھ سکتاہے کہ وہ علم،امن اورمحبت کی زبان بولے گا؟
ان حالات میں ضروری ہے کہ:
بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں۔اقوام متحدہ بھارت کوبازرکھنے کے لئے پابندیاں عائدکرے۔عالمی میڈیا کوحقائق کی درست تصویر پیش کی جائے۔ پاکستان کواپنی سفارتی سرگرمیوں کومزید متحرک اورمربوط بناناہوگا۔ جنوبی ایشیاء میں امن کے لئے بین الاقوامی کانفرنس بلائی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ بھارت کی کے خلاف کے لئے

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم