Express News:
2026-06-03@00:37:46 GMT

اقتصادی جائزہ رپورٹ اور عام کاشتکار

اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT

گزشتہ دنوں حکومتِ پاکستان نے اقتصادی جائزہ رپورٹ یعنی ’’پاکستان اکنامک سروے 2024-25‘‘ جاری کی، جس پر مختلف ماہرین رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

پاکستان کی معیشت میں زراعت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، لہٰذا اس سروے میں شامل زرعی اعداد و شمار اور تجزیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ اکنامک سروے ہمیں کیا بتاتا ہے اور کیا نہیں بتاتا؟

اکنامک سروے میں عمومی طور پر زرعی شعبے سے متعلق اہم معلومات فراہم کی جاتی ہیں، جن میں مختلف فصلات کے زیر کاشت رقبے کی تفصیل شامل ہوتی ہے کہ کون سی فصل کتنے رقبے پر کاشت کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کل پیداوار کتنی حاصل ہوئی اور فی ایکڑ اوسط پیداوار میں گزشتہ سال کی نسبت کیا تبدیلی رونما ہوئی۔

سروے میں لائیو اسٹاک یعنی مال مویشی کی افزائش میں ہونے والے اضافے یا کمی کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ زرعی مداخل جیسے بیج، کھاد، پانی اور مشینری کی دستیابی کی صورت حال کا تجزیہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، حکومت کی جانب سے شروع کی گئی زرعی اسکیموں کی پیشرفت اور ان کے اثرات کا احاطہ بھی کیا جاتا ہے۔ اگر کسی فصل کی پیداوار میں اضافہ یا کمی واقع ہو، تو اس کے اسباب مثلاً موسمی حالات، مداخل کی دستیابی یا قیمتوں میں رد و بدل، بھی سروے میں بیان کیے جاتے ہیں۔

حال ہی میں جاری کیے گئے اقتصادی سروے کے مطابق، رواں مالی سال کے دوران ملک کی پانچ اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو ساڑھے تیرہ فیصد تک جا پہنچی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، کپاس کی فصل اس سال بری طرح متاثر ہوئی، جس کی پیداوار 30 فیصد سے بھی کم رہی۔ گنے کی فصل میں بھی کمی دیکھی گئی، اسی طرح چاول کی فصل میں بھی تقریباً ڈیڑھ فیصد کمی آئی ۔ مکئی کی فصل کو بھی شدید نقصان پہنچا اور اس کی پیداوار 15 فیصد گھٹ گئی۔ گندم، جو کہ ملک کی سب سے اہم غذائی فصل ہے، اس کی پیداوار میں بھی تقریباً نو فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی۔ البتہ لائیو اسٹاک کے شعبے نے 4 فی صد سے زائد شرح سے ترقی کی۔ اس طرح مجموعی طور پر زراعت کی پیداواری شرح 0.

58 فیصد رہی۔

فصلوں کی پیداوار سے متعلق یہ تمام معلومات بھی اہم ہیں۔ لیکن ان سے دیہی معیشت کے حقیقی اثرات کا مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ کیونکہ اکنامک سروے یہ نہیں بتاتا کہ اگر کسی فصل کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے تو کیا اس سے کاشتکار کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے؟ مثال کے طور پر کسی کسان کی گندم کی پیداوار 40 من سے بڑھ کر 50 من ہو گئی، لیکن اگر گندم کا نرخ 4000 روپے فی من سے گر کر 2000 روپے فی من ہو گیا، تو پیداوار بڑھنے کے باوجود کسان کی آمدنی کم ہوگئی۔

رواں سال بھی رپورٹ کے مطابق زراعت میں مجموعی طور پر 0.58 فیصد ترقی دکھائی گئی ہے، لیکن جب ہم دیہی علاقوں میں کسان کی حالت دیکھتے ہیں تو وہ شدید مالی خسارے اور غیر یقینی کا شکار نظر آتا ہے۔

گزشتہ سال حکومت نے گندم کی خریداری سے دستبرداری اختیار کی۔ بعض حکومتی حلقے اسے پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہیں، لیکن کاشتکار کی سطح پر اس کے منفی اثرات نمایاں ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس طرح کاشت کار گندم کے زیر کاشت رقبے کو کم کرکے متبادل فصلیں اگائے گا جن کے اسے مناسب دام ملیں گے۔

لیکن ایک منافع بخش متبادل فصل کا انتخاب کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جیسے کہ مقامی آب و ہوا، مٹی کی قسم، پانی کی دستیابی، اور سب سے اہم، مارکیٹ میں اس کی طلب۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ آیا وہ فصل مقامی مارکیٹ میں خریدی جائے گی یا پھر بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی مانگ زیادہ ہے۔ بہت سی ایسی فصلیں ہیں جو روایتی فصلوں کی نسبت زیادہ منافع دے سکتی ہیں لیکن اس کے لیے کسانوں کو بروقت اور درست معلومات فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہیں یہ جاننا چاہیے کہ کون سی فصل ان کے علاقے کے لیے موزوں ہے، اس کی کاشت کے طریقے کیا ہیں، اور اسے کہاں فروخت کیا جا سکتا ہے۔ 

کاشتکاروں نے رواں سال گندم کے متبادل سرسوں، رایا، سبزیاں اور پیاز اگائے لیکن منڈی میں سبزیوں اور پیاز کی قیمتیں اس قدر گرگئیں کہ کسان کی لاگت بھی پوری نہ ہو سکی۔

دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ اسی طرح زرعی اجناس بھی عالمی سطح پر منسلک ہوچکی ہیں۔ اگر پاکستان ایک جنس درآمد کرتا ہے اور دوسری جنس برآمد کر لیتا ہے اور اس عمل سے کاشتکار کو اگر مناسب دام مل جائیں تو یہ ایک دانشمندانہ حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ اس لیے کہ اس کا براہِ راست فائدہ کاشتکار کی آمدنی کی بہتری کی صورت میں نکلتا ہے۔

کسان آج جس قدر بے یار و مددگار ہے، شاید پہلے کبھی نہ تھا۔ ایک طرف مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال، دوسری طرف حکومتی پالیسیوں کا فقدان۔ 

پاکستان میں کسانوں کی خوشحالی کو یقینی بنانے کےلیے ایک جامع حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ اس ضمن میں، سب سے پہلے ایک ایسا تحقیقی ادارہ قائم کیا جانا چاہیے جو مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں زرعی اجناس کی طلب اور بدلتے ہوئے رجحانات پر گہری نظر رکھے۔ اس تحقیق کی روشنی میں، کاشتکاروں کو بروقت اور مستند رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ روایتی فصلوں کے بجائے ان فصلوں کا انتخاب کر سکیں جو زیادہ منافع بخش ثابت ہوں۔

مزید برآں، زرعی پالیسیوں کو ملکی برآمدات کے ساتھ مربوط کرنا ازحد ضروری ہے؛ اس اقدام سے نہ صرف اضافی پیداوار کو عالمی منڈی میں فروخت کر کے قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکے گا، بلکہ کسان کو بھی اس کی محنت کا بہتر معاوضہ ملے گا۔ 
 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پیداوار میں اکنامک سروے کی پیداوار سروے میں میں بھی جاتا ہے اور اس کی فصل

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا

ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔

 ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔

 آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔

 قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ 

 وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔

 اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
 

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے