سعودی عرب اور شام کے درمیان 24 ارب ریال کے سرمایہ کاری معاہدے، اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
سعودی عرب کے وزیرِ سرمایہ کاری انجینیئر خالد الفالح کی قیادت میں اعلیٰ سطحی سرمایہ کاری وفد نے شام کا اہم دورہ مکمل کر لیا جس کے دوران دونوں برادر ممالک کے درمیان تاریخی نوعیت کے اقتصادی معاہدے طے پائے۔
دورے کا مقصد شام میں پائیدار ترقی، اقتصادی بحالی اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات کو حقیقت کا روپ دینا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا شام میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان
اس دوران دمشق میں (سعودی شامی سرمایہ کاری فورم) کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت صدرِ شام احمد الشرع نے کی۔ اس اہم موقعے پر دونوں ممالک کے وزرا، اعلیٰ حکام، اور سرکردہ کاروباری شخصیات کی شرکت نے اس فورم کو تاریخی بنا دیا۔
فورم میں جائیداد، توانائی، سیاحت، صنعت، صحت، مالیات، تجارت، آئی ٹی اور دیگر اہم شعبہ جات میں سرمایہ کاری کے 47 معاہدوں پر دستخط کیے گئے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 24 ارب ریال سعودی رہی۔
ان معاہدوں کا مقصد شام کی معیشت کو استحکام دینا اور سعودی سرمایہ کاری کو شام کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے فروغ دینا ہے۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب میں ٹرین سے سفر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ
وزارتی اجلاس میں انجینئر خالد الفالح کے ساتھ شام کے وزرائے معیشت، صنعت، اور سیاحت نے شرکت کی۔ اجلاس میں باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، سعودی قیادت کی شامی عوام کے لیے مسلسل حمایت اور سعودی کاروباری اداروں کے شام کی تعمیرِ نو میں ممکنہ کردار پر گفتگو کی گئی۔
اس موقعے پر (اسمنت البادیہ) کمپنی نے 200 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا جس کے تحت سیمنٹ کی پیداوار اور بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں وزیرِ سرمایہ کاری نے دمشق میں 100 ملین ریال کی لاگت سے (الفيحاء) سیمنٹ فیکٹری اور 375 ملین ریال مالیت کے (برج الجوهرة) کمرشل منصوبے کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کا سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق
یہ دورہ سعودی عرب اور شام کے درمیان ایک نئے اقتصادی باب کا آغاز ثابت ہو رہا ہے جو علاقائی استحکام، ترقی اور برادرانہ تعاون کے جذبے کو مزید تقویت دے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب سعودی عرب و شام میں سرمایہ کاری معاہدے سعودی وزیرِ سرمایہ کاری انجینیئر خالد الفالح شام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی عرب و شام میں سرمایہ کاری معاہدے سرمایہ کاری
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں