Jang News:
2026-06-03@05:24:21 GMT

دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال پر رپورٹ جاری

اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT

دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال پر رپورٹ جاری

— فائل فوٹو 

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال بتا دی۔

ترجمان واپڈا کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کی آمد1 لاکھ31 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 50 ہزار 700 کیوسک ہے، دریائے جہلم میں پانی کی آمد 36 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 27 ہزار 900 کیوسک ہے جبکہ دریائے چناب میں پانی کی آمد 48 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 18ہزار 100 کیوسک ہے۔

دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال سامنے آگئی

واپڈا کے اعداد و شمار کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 1 لاکھ 51 ہزار 800 اور اخراج 1 لاکھ 40 ہزار کیوسک ہے

ترجمان واپڈا نے بتایا کہ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 88 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہے۔

ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1444.

22 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 9 لاکھ ایکڑ فٹ ہے جبکہ منگلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1164.10 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 23 لاکھ 10 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کیوسک اور اخراج میں پانی کی آمد اور اخراج 1 کیوسک ہے

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا