اسرائیل میں پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تحریک، نتن یاہو کی حکومت شدید دباؤ میں
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یروشلم: اسرائیل کی اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ (کنیسٹ) تحلیل کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت کے لیے اب تک کا سب سے سنگین سیاسی چیلنج بن گیا ہے اور قبل از وقت انتخابات کے امکانات کو جنم دے رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق اگرچہ یہ تحریک پاس ہو بھی جائے تو فوری طور پر حکومت کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا کیونکہ حتمی ووٹنگ سے قبل کئی مہینوں پر محیط پارلیمانی مراحل درکار ہوں گے، ابتدائی منظوری بھی نتن یاہو کی سیاسی ساکھ پر کاری ضرب ثابت ہوگی۔
حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو کیے گئے حملے کے بعد اس مسئلے نے مزید شدت اختیار کر لی ہے اور اسرائیلی عوام میں ناراضی بڑھی ہے کیونکہ عام یہودی نوجوانوں کو طویل فوجی سروس سے گزرنا پڑتا ہے جب کہ ہزاروں مذہبی نوجوان اس سے مستثنیٰ ہیں۔
یونائیٹڈ توراہ جوڈازم نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر ووٹنگ کی دھمکی دی ہے جبکہ شاس پارٹی نے اپنے موقف کو مبہم رکھا ہے، اگر یہ دونوں جماعتیں اپوزیشن کا ساتھ دیتی ہیں تو پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تحریک اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔
اپوزیشن جماعتیں جن میں بائیں، وسطی اور دائیں بازو کے دھڑے شامل ہیں، مختلف نظریات رکھنے کے باوجود نتن یاہو کی حکومت کو گرانے پر متفق ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ الٹرا آرتھوڈوکس کی فوجی سروس لازمی قرار دی جائے اور حکومت کو عوام کی مرضی کے مطابق دوبارہ منتخب ہونے کا موقع دیا جائے۔
خیال رہے کہ نتن یاہو کی حکومت کے پاس 120 رکنی کنیسٹ میں 68 نشستیں ہیں جن میں سے مذکورہ مذہبی جماعتیں 18 نشستیں رکھتی ہیں، ان کے الگ ہونے کی صورت میں حکومت کمزور ہو جائے گی۔
وزیراعظم نتن یاہو کی حکومت اکتوبر 2023 کے بعد سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ عوام انہیں حماس حملے سے قبل انٹیلیجنس اور پالیسی کی ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں اور یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی واپسی کے لیے ناکافی اقدامات پر بھی نالاں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نتن یاہو کی حکومت
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔