312ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات کرلئے ،چیئرمین ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسلام آباد: چیئرمین ایف بی آرراشدلنگڑیال نے کہاہے کہ ہم نے 312ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات کرلئے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے راشدلنگڑیال نے کہا کہ انفورسمنٹ کے لئے مختلف شعبوں کی فہرست بنائی ہے ،اگلے تین چارماہ میں آپ دیکھیں گے یاتومافیاجیت جائے گایاحکومت جیت جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ اصل ٹیکس وصولی18سے20فیصدکے درمیان رہی، انفورسمنٹ کے ذریعے شوگرسیکٹرسے 39فیصدزیادہ ٹیکس جمع کیاہے،مجھے نہیں لگتاکہ اگلے مالی سال میں ہمیں ٹیکس شارٹ فال کا سامناہوگا۔
انہوں نے کہاکہ شوگرملوں کی مانیٹرنگ کرنے والی ٹیم کی بھی مانیٹرنگ کرائی گئی ،تین ،چارشوگرملوں کی سوفیصدمانیٹرنگ کی تو انہوں نے پروڈکشن ہی بندکردی۔انہوں نے کہاکہ شوگرسیکٹرہمارے لئے ٹیسٹ کیس ہے، شوگرکے بعد اب بیوریجزاورپولٹری سیکٹرمیں انفورسمنٹ کریں گے۔ انہوں نے اعتراف کیاکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ زیادہ ہے۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ مقامی طورپر تیارکردہ سولرپینلزپر بھی ٹیکس ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔