مودی حکومت اختلاف رائے کو دبانے کیلئے "یو اے پی اے" قانون کا استعمال کررہی ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
کانگریس لیڈر پون کھیرا نے الزام لگایا کہ صحافی فہد شاہ اور عرفان معراج کو یو اے پی اے کے تحت انکی رپورٹنگ کیلئے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ابھی تک جیلوں میں بند ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس نے مودی حکومت پر اختلاف رائے کو دبانے کا الزام لگایا اور کہا کہ آزادی اظہار کو خطرہ ظاہر کرنے کے لئے "یو اے پی اے" جیسے قوانین کا غلط استعمال بی جے پی کے وسیع حملے کا حصہ ہے۔ کانگریس پارٹی نے مودی حکومت پر تنقید کی اور کئی کیسز کا حوالہ دیا، جن میں آنند تیلٹمبڈے، نودیپ کور، عمر خالد، شرجیل امام، پربیر پورکیاستھا اور امیت چکرورتی شامل ہیں۔ کانگریس کے میڈیا اور پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیرا نے کہا کہ مودی حکومت نے یو اے پی اے قانون کو تیزی سے اختلاف رائے کو دبانے اور انصاف میں تاخیر کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء سے 2022ء کے درمیان 8,719 یو اے پی اے مقدمات میں صرف 2.
پون کھیرا نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آنند تیلٹمبڈے، نودیپ کور اور مہیش راوت کو بھیما کوریگاؤں کیس میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تیلٹمبڈے کو تین سال جیل میں گزارنے کے بعد رہا کیا گیا اور کور کو اسی سال ضمانت مل گئی تھی جس سال انہیں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن دوران حراست ان کے ساتھ مبینہ طور پر مار پیٹ کی گئی اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہیش راوت 2018ء سے جیل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالب علم و سماجی کارکن عمر خالد، شرجیل امام اور صفورا زرگر کو یو اے پی اے کے تحت "سی اے اے" مخالف مظاہروں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عمر خالد اور شرجیل امام 2020ء سے جیل میں ہیں۔
پون کھیرا نے الزام لگایا کہ صحافی فہد شاہ اور عرفان معراج کو یو اے پی اے کے تحت ان کی رپورٹنگ کے لئے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پربیر پورکاستھا اور امیت چکرورتی کو 2023ء میں نیوز کلک سے متعلق ایک غیر ملکی فنڈنگ کیس میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ فہد شاہ کو 600 دنوں کے بعد رہا کیا گیا تھا جبکہ دیگر باقی جیلوں میں ابھی بھی بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں بار بار اس زیادتی کو اجاگر کرتی ہیں۔ پون کھیرا نے کہا کہ بھارت کی جمہوریت کی حفاظت پُرامن اختلاف رائے اور آزادی اظہار کے تحفظ سے شروع ہوتی ہے، لیکن یو اے پی اے جیسے قوانین کا خطرناک غلط استعمال ان آزادیوں کو خطرہ بناتا ہے اور یہ بھارتی آئین پر بی جے پی کے وسیع حملے کا ایک حصہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گرفتار کیا گیا تھا یو اے پی اے کے تحت انہوں نے کہا کہ پون کھیرا نے اختلاف رائے مودی حکومت کے لئے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔