حریت ترجمان نے کہا کہ بھارت بھاری تعداد میں فوجیوں کی موجودگی سے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فوجیوں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے بھارت نے علاقے کو ایک بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے جہاں بھارتی فوجیوں کی موجودگی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت کے غیر قانونی حملے کے بعد سے فوجی محاصرے میں ہے۔ انہوں نے کہ بھاری تعداد میں فوج کی موجودگی سے علاقے میں ایک سنگین اور طویل ترین انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجیوں کی تعیناتی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی ہر گلی اور ہر محلہ فوجی محاصرے میں ہے، بھارتی فوجی علاقے کے طول و عرض میں گشت کر رہے ہیں۔ حد سے زیادہ فوجیوں کی موجودگی کا مقصد علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کر کے کشمیری عوام کی جائز سیاسی امنگوں کو دبانا ہے۔ایڈووکیٹ منہاس نے کہا کہ تقریبا 10 لاکھ بھارتی فوجی علاقے میں تعینات ہیں اور ہر سات شہریوں پر ایک مسلح فوجی پہرہ دے رہا ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ بھاری تعداد میں فوجیوں کی موجودگی کے باعث ہراساں کیے جانے، بلاجواز گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے۔ حریت ترجمان نے کہا کہ بھارت بھاری تعداد میں فوجیوں کی موجودگی سے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی خاموشی توڑ کر متنازعہ علاقے میں منظم انداز میں فوجی مظالم اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل پر ہے۔ ایڈووکیٹ منہاس نے کہا کہ کشمیری عوام خیرات نہیں مانگ رہے بلکہ وہ اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کا وعدہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی طاقت سے کبھی کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے عالمی ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ وہ فوجی استثنی کی آڑ میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کریں۔ترجمان نے خبردار کیا کہ عالمی برادری کی خاموشی سے بھارت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مظالم کو بلا روک ٹوک جاری رکھے۔ حریت ترجمان نے کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل پر زور دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فوجیوں کی موجودگی بھاری تعداد میں بھارتی فوجی انہوں نے کہ علاقے میں نے کہا کہ میں فوجی

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا