Express News:
2026-07-24@05:07:56 GMT

ایشیا کپ اور بھارتی رونا دھونا

اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT

’’ انڈیا میں پبلک کو۔۔۔ بنانے کیلیے سرکار دیش بھگتی کا چورن بیچتی ہے بس، پبلک بے وقوف بنتی ہے کیونکہ پبلک کو چورن پسند ہے‘‘

آج کل ایک بھارتی ویب سیریز کی چند سیکنڈز کی یہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہے، انڈین شائقین ہی کیا سیاست دان اور میڈیا سب ہی بی سی سی آئی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، وہ جنگ میں ہار کے بعد اب پاکستان سے کرکٹ میں بھی مقابلہ نہیں چاہتے۔ 

صحافی وکرانت گپتا نے جب ایک پروگرام میں پاکستان سے کرکٹ کیخلاف بات کی تو لوگ انھیں بھی بْرا بھلا کہنے لگے کہ ’’تم تو وہاں کی بریانی کھا کر خوش ہو رہے تھے اب کیوں پلٹ گئے‘‘ سچ بتاؤں تو یہ سب کچھ دیکھ کر مزا بھی آ رہا ہے، زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب پاکستان ٹیم ہر آئی سی سی ایونٹ کیلیے بھارت چلی جاتی تھی اور وہ یہاں آنے سے انکاری تھے۔

محسن نقوی کے بارے میں مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ کیوں انھیں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سب ہی پسند کرتے ہیں، چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے وہ لگتے تو سیدھے سادے سے انسان ہیں لیکن دماغ کمال کا پایا ہے، ان کی وجہ سے بھارتی کرکٹ بورڈ اب اپنے ہی ملک میں گالیاں کھا رہا ہے، ہائبرڈ ماڈل پر معاہدے کے بعد پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی میں صرف بھارت کے میچز دبئی منتقل کیے، ان کو تو پورا ایشیا کپ یو اے ای میں کرانا پڑ رہا ہے، بھارتی بورڈ کبھی میڈیا میں خود سامنے نہیں آتا خبریں پلانٹ کرتا ہے۔ 

گزشتہ دنوں ایشیا کپ نہ ہونے کی اسٹوریز سامنے آئیں، پھر بھارت نے بنگلہ دیش سے خراب تعلقات کی وجہ سے وہاں اے سی سی کا اجلاس رکھنے پر شور مچایا، ساتھ ایونٹ کے ہی بائیکاٹ کا عندیہ دے دیا، رپورٹس کے مطابق سری لنکا اور افغانستان بھی اس کے ساتھ تھے، بی سی سی آئی کو لگتا تھا کہ محسن نقوی کورم پورا نہیں کر پائیں گے لیکن ایسا ہو گیا، افغانستان اور یو اے ای کے نمائندے میٹنگ میں شریک ہوئے، اس کا علم پہلے ہی ہونے پر بھارت نے سبکی سے بچنے کیلیے راجیو شکلا کو میٹنگ میں آن لائن شریک کروایا۔ 

اس روز ایشیا کپ کے حوالے سے کوئی اعلان نہ ہونے پر پھر لوگ شکوک میں مبتلا ہونے لگے لیکن ہفتے کی صبح پہلے بھارتی میڈیا نے حکومتی اجازت ملنے اور پھر شیڈول جلد ہی جاری ہونے کی اسٹوریز دینا شروع کر دیں، ظاہر ہے ایسا کرکٹ بورڈ کی ایما پر ہی ہو رہا ہو گا، پھر محسن نقوی نے پہلے سوشل میڈیا پر ایونٹ کی تاریخیں اور پھر مکمل شیڈول ہی جاری کر دیا۔ 

اس پر بھارتیوں کی چیخیں سوشل میڈیا پر گونجنے لگیں اور اب بھی گونج رہی ہیں، کہاں سابق کرکٹرز کی لیگ میں بھارتی کرکٹرز کو ڈرا دھمکا کر پاکستان کیخلاف نہیں کھیلنے دیا گیا اور کہاں اب ایشیا کپ میں تین ممکنہ میچز پر بھی آمادگی ظاہر کر دی، اس پر ہی انڈینز یہ باتیں کر رہے ہیں کہ حب الوطنی کا چورن صرف عوام کو بے وقوف بنانے کیلیے بیچا جاتا ہے، جہاں پیسہ آئے وہاں سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ 

جے شاہ گوکہ اب آئی سی سی کے سربراہ بن چکے لیکن بی سی سی آئی پر ان کا ہی کنٹرول ہے، سب جانتے ہیں وہ بھارتی ہوم منسٹر امیت شاہ کے بیٹے ہیں، کوئی اور ہوتا تو یہ فیصلہ اس کے گلے پڑ جانا تھا،2024 سے2031 تک ایشین کرکٹ کونسل کے 8 سالہ میڈیا رائٹس170 ملین ڈالر (تقریبا47ارب26 کروڑ پاکستانی روپے) میں فروخت ہوئے ہیں، بھارت میں کوئی اتنی بڑی ڈیل ہو اور اس میں سیاستدان اپنا حصہ وصول نہ کریں یہ ممکن ہی نہیں ہے۔

شاید براڈ کاسٹر نے ایونٹ نہ ہونے پر اپنا ممکنہ نقصان دیکھ کر حکومتی شخصیات کے سامنے رونا دھونا مچایا ہو جس کی وجہ سے اجازت مل گئی، ویسے ابھی جو بھارتی پاکستان سے میچز پر طوفانی برپا کیے ہوئے ہیں وہی اب ٹکٹس کیلیے دھکے کھاتے پھریں گے، روایتی حریفوں کے ہر میچ میں اسٹیڈیم بھرا ہو گا، ٹی وی ریٹنگ آسمان سے باتیں کرے گی،اس وقت وہ اپنے تباہ شدہ جہازوں کو بھول جائیں گے۔ 

ٹی وی پر ہر میچ پر اشتہار کے کروڑوں روپے ملتے ہیں تب ہی تو براڈ کاسٹر نے اتنی سرمایہ کاری کی، یہ سارا گیم پیسے کا ہے، ڈالر کی چمک دیکھنے کیلیے دشمنی کی عینک آنکھ سے اتار دی جاتی ہے، بھارتی بورڈ اسی لیے کبھی آئی سی سی یا اے سی سی ایونٹ میں پاکستان کیخلاف کھیلنے سے انکار نہیں کرتا، آئی سی سی کا بھی براڈ کاسٹر بھارتی ہی ہے۔ 

بی سی سی آئی کو 2023-24 کے مالی سال میں9741.

7 کروڑ انڈین روپے کی آمدنی ہوئی، اس میں آئی پی ایل کا حصہ ہی 5761 کروڑ رہا، بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس بورڈ کے پاس اتنی دولت ہو وہ ایشیا کپ صرف پیسے کیلیے نہیں کھیل سکتا، چند ارب روپے کیلیے وہ کیوں اپنے عوام کے طعنے سہہ رہا ہے، دراصل یہ صرف ایشیا کپ کی بات نہیں تھی، اگلے سال بھارت میں ورلڈکپ بھی ہونا ہے۔ 

اگر بی سی سی آئی ایشیا کپ کا بائیکاٹ کر دے تو کل کو پاکستان بھی ورلڈکپ میں اس کیخلاف کھیلنے سے انکار کر سکتا ہے، آئی سی سی کا ویسے ہی براڈ کاسٹر سے تنازع چل رہا ہے، اس صورت میں ایونٹ بے رنگ ہو جائے گا، جے شاہ یہ ایفورڈ نہیں کر سکتے، اسی لیے انھوں نے ایشیا کپ کیلیے نہ چاہتے ہوئے بھی بھارتی بورڈ کو گرین سگنل دے دیا۔

خیر وجہ جو بھی ہو یہ پاکستان کی کامیابی ہے، محسن نقوی اے سی سی کے سربراہ پی سی بی چیف ہونے کی وجہ سے ہی بنے ہیں،ان کے اچھے کام کا کریڈٹ ہمارے ملک کو ہی جائے گا، جس طرح جنگ میں ہماری بہادر افواج نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے ساتھ اس کے خودساختہ ایشین سپر پاور کا تاثر خاک میں ملایا۔ 

اسی طرح کرکٹ میں بھی ہم نے بھارتی چوہدراہٹ کو چیلنج کر دیا ہے، اچھی بات یہ ہے کہ چیئرمین پی سی بی دیگر ممالک سے تعلقات بھی بہتر بنا رہے ہیں اسی لیے اے سی سی اجلاس میں تنہا نہیں رہے، البتہ ابھی محتاط رہنا ہوگا کل کو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عوامی دباؤ پر بھارتی حکومت اور بورڈ بیک فٹ پر چلے جائیں اور ایشیا کپ پھر خطرے میں پڑ جائے۔ 

یہ بات یاد رکھیں کہ تاحال بی سی سی آئی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایشیا کپ کا شیڈول دیا نہ کوئی پریس ریلیز کی،وہ چپ سادھے بیٹھے ہیں،اے سی سی کو پلان بی بھی رکھنا چاہیے تاکہ عین وقت پر رنگ میں بھنگ نہ پڑے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا براڈ کاسٹر محسن نقوی کی وجہ سے ایشیا کپ اے سی سی رہا ہے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی