Express News:
2026-07-24@06:07:35 GMT

ایشیا کپ اور بھارتی رونا دھونا

اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT

’’ انڈیا میں پبلک کو۔۔۔ بنانے کیلیے سرکار دیش بھگتی کا چورن بیچتی ہے بس، پبلک بے وقوف بنتی ہے کیونکہ پبلک کو چورن پسند ہے‘‘

آج کل ایک بھارتی ویب سیریز کی چند سیکنڈز کی یہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہے، انڈین شائقین ہی کیا سیاست دان اور میڈیا سب ہی بی سی سی آئی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، وہ جنگ میں ہار کے بعد اب پاکستان سے کرکٹ میں بھی مقابلہ نہیں چاہتے۔ 

صحافی وکرانت گپتا نے جب ایک پروگرام میں پاکستان سے کرکٹ کیخلاف بات کی تو لوگ انھیں بھی بْرا بھلا کہنے لگے کہ ’’تم تو وہاں کی بریانی کھا کر خوش ہو رہے تھے اب کیوں پلٹ گئے‘‘ سچ بتاؤں تو یہ سب کچھ دیکھ کر مزا بھی آ رہا ہے، زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب پاکستان ٹیم ہر آئی سی سی ایونٹ کیلیے بھارت چلی جاتی تھی اور وہ یہاں آنے سے انکاری تھے۔

محسن نقوی کے بارے میں مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ کیوں انھیں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سب ہی پسند کرتے ہیں، چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے وہ لگتے تو سیدھے سادے سے انسان ہیں لیکن دماغ کمال کا پایا ہے، ان کی وجہ سے بھارتی کرکٹ بورڈ اب اپنے ہی ملک میں گالیاں کھا رہا ہے، ہائبرڈ ماڈل پر معاہدے کے بعد پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی میں صرف بھارت کے میچز دبئی منتقل کیے، ان کو تو پورا ایشیا کپ یو اے ای میں کرانا پڑ رہا ہے، بھارتی بورڈ کبھی میڈیا میں خود سامنے نہیں آتا خبریں پلانٹ کرتا ہے۔ 

گزشتہ دنوں ایشیا کپ نہ ہونے کی اسٹوریز سامنے آئیں، پھر بھارت نے بنگلہ دیش سے خراب تعلقات کی وجہ سے وہاں اے سی سی کا اجلاس رکھنے پر شور مچایا، ساتھ ایونٹ کے ہی بائیکاٹ کا عندیہ دے دیا، رپورٹس کے مطابق سری لنکا اور افغانستان بھی اس کے ساتھ تھے، بی سی سی آئی کو لگتا تھا کہ محسن نقوی کورم پورا نہیں کر پائیں گے لیکن ایسا ہو گیا، افغانستان اور یو اے ای کے نمائندے میٹنگ میں شریک ہوئے، اس کا علم پہلے ہی ہونے پر بھارت نے سبکی سے بچنے کیلیے راجیو شکلا کو میٹنگ میں آن لائن شریک کروایا۔ 

اس روز ایشیا کپ کے حوالے سے کوئی اعلان نہ ہونے پر پھر لوگ شکوک میں مبتلا ہونے لگے لیکن ہفتے کی صبح پہلے بھارتی میڈیا نے حکومتی اجازت ملنے اور پھر شیڈول جلد ہی جاری ہونے کی اسٹوریز دینا شروع کر دیں، ظاہر ہے ایسا کرکٹ بورڈ کی ایما پر ہی ہو رہا ہو گا، پھر محسن نقوی نے پہلے سوشل میڈیا پر ایونٹ کی تاریخیں اور پھر مکمل شیڈول ہی جاری کر دیا۔ 

اس پر بھارتیوں کی چیخیں سوشل میڈیا پر گونجنے لگیں اور اب بھی گونج رہی ہیں، کہاں سابق کرکٹرز کی لیگ میں بھارتی کرکٹرز کو ڈرا دھمکا کر پاکستان کیخلاف نہیں کھیلنے دیا گیا اور کہاں اب ایشیا کپ میں تین ممکنہ میچز پر بھی آمادگی ظاہر کر دی، اس پر ہی انڈینز یہ باتیں کر رہے ہیں کہ حب الوطنی کا چورن صرف عوام کو بے وقوف بنانے کیلیے بیچا جاتا ہے، جہاں پیسہ آئے وہاں سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ 

جے شاہ گوکہ اب آئی سی سی کے سربراہ بن چکے لیکن بی سی سی آئی پر ان کا ہی کنٹرول ہے، سب جانتے ہیں وہ بھارتی ہوم منسٹر امیت شاہ کے بیٹے ہیں، کوئی اور ہوتا تو یہ فیصلہ اس کے گلے پڑ جانا تھا،2024 سے2031 تک ایشین کرکٹ کونسل کے 8 سالہ میڈیا رائٹس170 ملین ڈالر (تقریبا47ارب26 کروڑ پاکستانی روپے) میں فروخت ہوئے ہیں، بھارت میں کوئی اتنی بڑی ڈیل ہو اور اس میں سیاستدان اپنا حصہ وصول نہ کریں یہ ممکن ہی نہیں ہے۔

شاید براڈ کاسٹر نے ایونٹ نہ ہونے پر اپنا ممکنہ نقصان دیکھ کر حکومتی شخصیات کے سامنے رونا دھونا مچایا ہو جس کی وجہ سے اجازت مل گئی، ویسے ابھی جو بھارتی پاکستان سے میچز پر طوفانی برپا کیے ہوئے ہیں وہی اب ٹکٹس کیلیے دھکے کھاتے پھریں گے، روایتی حریفوں کے ہر میچ میں اسٹیڈیم بھرا ہو گا، ٹی وی ریٹنگ آسمان سے باتیں کرے گی،اس وقت وہ اپنے تباہ شدہ جہازوں کو بھول جائیں گے۔ 

ٹی وی پر ہر میچ پر اشتہار کے کروڑوں روپے ملتے ہیں تب ہی تو براڈ کاسٹر نے اتنی سرمایہ کاری کی، یہ سارا گیم پیسے کا ہے، ڈالر کی چمک دیکھنے کیلیے دشمنی کی عینک آنکھ سے اتار دی جاتی ہے، بھارتی بورڈ اسی لیے کبھی آئی سی سی یا اے سی سی ایونٹ میں پاکستان کیخلاف کھیلنے سے انکار نہیں کرتا، آئی سی سی کا بھی براڈ کاسٹر بھارتی ہی ہے۔ 

بی سی سی آئی کو 2023-24 کے مالی سال میں9741.

7 کروڑ انڈین روپے کی آمدنی ہوئی، اس میں آئی پی ایل کا حصہ ہی 5761 کروڑ رہا، بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس بورڈ کے پاس اتنی دولت ہو وہ ایشیا کپ صرف پیسے کیلیے نہیں کھیل سکتا، چند ارب روپے کیلیے وہ کیوں اپنے عوام کے طعنے سہہ رہا ہے، دراصل یہ صرف ایشیا کپ کی بات نہیں تھی، اگلے سال بھارت میں ورلڈکپ بھی ہونا ہے۔ 

اگر بی سی سی آئی ایشیا کپ کا بائیکاٹ کر دے تو کل کو پاکستان بھی ورلڈکپ میں اس کیخلاف کھیلنے سے انکار کر سکتا ہے، آئی سی سی کا ویسے ہی براڈ کاسٹر سے تنازع چل رہا ہے، اس صورت میں ایونٹ بے رنگ ہو جائے گا، جے شاہ یہ ایفورڈ نہیں کر سکتے، اسی لیے انھوں نے ایشیا کپ کیلیے نہ چاہتے ہوئے بھی بھارتی بورڈ کو گرین سگنل دے دیا۔

خیر وجہ جو بھی ہو یہ پاکستان کی کامیابی ہے، محسن نقوی اے سی سی کے سربراہ پی سی بی چیف ہونے کی وجہ سے ہی بنے ہیں،ان کے اچھے کام کا کریڈٹ ہمارے ملک کو ہی جائے گا، جس طرح جنگ میں ہماری بہادر افواج نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے ساتھ اس کے خودساختہ ایشین سپر پاور کا تاثر خاک میں ملایا۔ 

اسی طرح کرکٹ میں بھی ہم نے بھارتی چوہدراہٹ کو چیلنج کر دیا ہے، اچھی بات یہ ہے کہ چیئرمین پی سی بی دیگر ممالک سے تعلقات بھی بہتر بنا رہے ہیں اسی لیے اے سی سی اجلاس میں تنہا نہیں رہے، البتہ ابھی محتاط رہنا ہوگا کل کو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عوامی دباؤ پر بھارتی حکومت اور بورڈ بیک فٹ پر چلے جائیں اور ایشیا کپ پھر خطرے میں پڑ جائے۔ 

یہ بات یاد رکھیں کہ تاحال بی سی سی آئی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایشیا کپ کا شیڈول دیا نہ کوئی پریس ریلیز کی،وہ چپ سادھے بیٹھے ہیں،اے سی سی کو پلان بی بھی رکھنا چاہیے تاکہ عین وقت پر رنگ میں بھنگ نہ پڑے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا براڈ کاسٹر محسن نقوی کی وجہ سے ایشیا کپ اے سی سی رہا ہے

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی