بھارت میں جبری مذہبی تبدیلیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے گروپ پر انتہا پسند ہندوؤں کا حملہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اندور پریس کلب میں دائیں بازو کی شدت پسند تنظیم بجرنگ دل کے کارکنان نے مرد و خواتین پر حملہ کر دیا۔
متاثرین جبری مذہبی تبدیلیوں کے الزامات کے خلاف میڈیا سے بات کرنے کے لیے پریس کانفرنس کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:مودی سرکار کا کشمیری مسلمانوں کے خلاف بھیانک منصوبہ، 40 ہزار انتہا پسند ہندوؤں کو ہتھیار پہنچا دیے
حملے میں متعدد خواتین کو عوام کے سامنے دھکا دیا گیا، زدوکوب کیا گیا اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔
صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب بجرنگ دل کے کارکنان نے پریس کانفرنس کا مقام زبردستی گھیر لیا اور الزام لگایا کہ مذکورہ گروپ دیواس کے جنگلاتی علاقوں میں ’سماجی خدمت‘ کے نام پر لوگوں کو عیسائیت کی طرف راغب کر رہا ہے۔
حملہ آوروں نے بعض افراد کے چہروں پر سیاہی مل دی اور پھر انہیں ایک مقامی اخبار کے دفتر تک پیچھا کرتے ہوئے وہاں بھی مبینہ طور پر پولیس کی موجودگی میں بیلٹوں سے مارا پیٹا۔
یہ تنازع دیواس پولیس کو موصول ہونے والی شکایات کے بعد شروع ہوا، جن کے مطابق کچھ مرد و خواتین بَروتھا تھانے کے جنگلاتی علاقے میں جھونپڑیوں میں رہ رہے تھے۔ مقامی افراد نے الزام لگایا کہ یہ لوگ گاؤں والوں کو عیسائیت اختیار کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ہولی پر انتہا پسند ہندوؤں کی مسلمان خاندان سے بدتمیزی، سوارا بھاسکر کا سخت ردعمل
صحافت کے شعبے سے وابستہ سوربھ بینرجی بھی ان متاثرین میں شامل تھے۔ وہ ان الزامات کی تردید کے لیے اندور میں پریس کانفرنس کرنے آئے تھے جو دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے پھیلائے جا رہے تھے۔
تاہم پروگرام شروع ہونے سے قبل ہی بجرنگ دل کے کارکنان نے مبینہ طور پر حملہ کر دیا، موت کی دھمکیاں دیں اور مطالبہ کیا کہ وہ میڈیا سے بات کرنا بند کریں۔
بعدازاں بجرنگ دل کے عہدیدار اویناش کوشل نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دیواس کے شکروسا گاؤں کے قریب جنگلات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیٔ مذہب کا نیٹ ورک چل رہا ہے۔
اُن کے بقول جب یہ لوگ اندور آئے تو ہم نے بات کرنے کی کوشش کی، مگر انہوں نے ہمیں ہی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ نوجوان لڑکیوں کو بڑی تعداد میں عیسائیت میں شامل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مذہبی انتہا پسندی اور اقلیتوں کیخلاف تشدد میں ہندوستان پیش پیش
شکایات میں سوربھ بینرجی کا نام بھی شامل تھا، جس کی وضاحت کے لیے انہوں نے پریس کانفرنس رکھی۔ اس موقع پر ایک نوجوان لڑکی بھی ان کے ساتھ موجود تھی۔ تاہم، جیسے ہی کانفرنس شروع ہوئی، لڑکی کے والدین وہاں پہنچے اور ہنگامہ کھڑا کر دیا، اور سوربھ پر ان کی بیٹی کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔
تاہم، سوربھ بینرجی نے ان تمام الزامات کی تردید کی۔انہوں نے کہا کہ ہم صرف طبی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ ہمارا کوئی غیر ملکی فنڈنگ سے تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی ایک بھی شخص سامنے آ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے اسے زبردستی مذہب تبدیل کروایا ہو۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتہاپسند ہندو اندور بجرنگ دل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتہاپسند ہندو پریس کانفرنس بجرنگ دل کے انتہا پسند انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
سعودی عرب میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ عمرہ زائرین کی سہولت کے لیے تیار کی گئی مقامی موبائل ایپ ’ہُدہُد‘ (Hudhud) مکہ مکرمہ کے مذہبی، تاریخی اور سیاحتی مقامات تک آسان رسائی کا مؤثر ذریعہ بن گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سال بھر دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عمرہ زائرین مکہ کی سڑکوں، گلیوں اور ٹریفک سے ناواقف ہونے کے باعث دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ’ہُدہُد‘ ایپ متعدد زبانوں میں دستیاب ہے اور جدید ڈیجیٹل نقشوں اور نیویگیشن سسٹم کی مدد سے زائرین کو مطلوبہ مقام تک مختصر اور آسان راستہ فراہم کرتی ہے۔
حج و عمرہ امور کے ماہر سعد الجودی نے کہا کہ مقامی سطح پر تیار کی گئی نقشہ سازی اور نیویگیشن ایپس اب زائرین کو فراہم کی جانے والی خدمات کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق ’ہُدہُد‘ صرف راستہ دکھانے تک محدود نہیں بلکہ زائرین کو ایسے مذہبی، تاریخی اور ثقافتی مقامات سے بھی متعارف کراتی ہے جن کے بارے میں بہت سے لوگ پہلے سے آگاہ نہیں ہوتے۔
Digital innovation is rapidly reshaping Saudi Arabia’s Hajj and Umrah services sector, and Saudi application Hudhud is another front-runner https://t.co/VPqPcDtolP pic.twitter.com/AAvP5Im9wJ
— Arab News (@arabnews) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں جاری ڈیجیٹل تبدیلی اب حجاج اور عمرہ زائرین کی روزمرہ سرگرمیوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے، کیونکہ زیادہ تر مسافر اب اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے سفر کی منصوبہ بندی اور رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بقول اس طرح کی ایپس وژن 2030 کے اس مقصد کو بھی تقویت دیتی ہیں جس کا ہدف زائرین کے تجربے کو بہتر بنانا اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنا ہے۔
پہلی بار مکہ آنے والے زائر سمیر المغربی نے بتایا کہ ’ہُدہُد‘ ایپ کی مدد سے وہ بغیر کسی مشکل کے متعدد تاریخی اور مذہبی مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے انہیں مختلف مقامات تلاش کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر بار بار سرچ کرنا پڑتی یا لوگوں سے راستہ پوچھنا پڑتا تھا، لیکن اس ایپ نے نہ صرف ان کا وقت بچایا بلکہ انہیں زیادہ اطمینان کے ساتھ عبادت اور تاریخی مقامات کی زیارت کا موقع بھی فراہم کیا۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب اور امریکا کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال پر معاہدہ
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ جدید ڈیجیٹل سہولیات، اسمارٹ ایپس اور جدید نیویگیشن سسٹمز کے ذریعے حجاج اور عمرہ زائرین کو بہتر، محفوظ اور سہل سفری تجربہ فراہم کرنا مملکت کی ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین کو مکہ مکرمہ میں عبادات اور مقدس مقامات کی زیارت کے دوران زیادہ سے زیادہ سہولت میسر آ سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب مکہ ہدہد ایپ