وزیراعظم شہباز جمعرات سے متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہبا ز شریف جمعرات سے متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ڈیفالٹ کے دہانے سے واپسی معجزہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف
ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحق ڈار، وفاقی وزرا اور دیگر سینیئر افسروں پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد بھی ہوگا۔
وزیراعظم متحدہ عرب امارات کی قیادت سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں سمیت یواے ای کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات بھی کریں گے۔ اعلیٰ سطح کی ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے دوطرفہ، علاقائی اور عالمی اُمور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف کا امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ٹیلیفونک رابطہ
دفترخارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ پاکستان اور یواے ای کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے اور کثیر جہتی تعاون بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم کا امارات کا دورہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم کا امارات کا دورہ
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔