بجٹ میں عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں عام آدمی پر کسی قسم کا اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جب کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تنخواہوں میں اضافہ اور ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔
وزیرِاعظم نے اسٹاک مارکیٹ کی ریکارڈ سطح پر پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ کا 124,000 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچنا کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کے عوام دوست بجٹ پر اعتماد کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ الحمدللہ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر آ چکا ہے، اور یہ ایک معاشی معجزہ ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر، ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ حکومت کی معاشی ٹیم کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب پوری قوم کو مل کر عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے کام کرنا ہوگا۔
وزیرِاعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے حکومتی اقدامات جاری رہیں گے اور موجودہ معاشی بحالی کو تاریخ میں ایک مثالی موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
مزیدپڑھیں:پاکستان میں سونا پھر مہنگا، نئی قیمت کیا ہوگئی؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔