انٹرٹیکسٹائل ایپیرل فیبرکس شنگھائی میں منعقد ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(بزنس رپورٹر)انٹرٹیکسٹائل شنگھائی ایپیرل فیبرکس، آٹم ایڈیشن ستمبر2 سے 4 ستمبر 2025 تک نیشنل ایگزیبیشن اینڈ کنونشن سینٹر، شنگھائی میں منعقد ہوگی۔ یہ نمائش کپڑوں اور فیبرکس کی صنعت کے لیے دنیا کی سب سے بااثر تجارتی نمائشوں میں سے ایک ہے، جو عالمی سطح پر ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے ماہرین کو نئے مصنوعات متعارف کروانے، پائیدار مواد دریافت کرنے اور بین الاقوامی سورسنگ کے ذریعے مینوفیکچررز کو ایک دوسرے سے ملنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مختلف اقسام کے ملبوسات اور فیبرکس پیش کرتی ہے، جن میں نِٹڈ فیبرکس اور مصنوعی ریشوں سے تیار کردہ کپڑے شامل ہیں۔ گزشتہ سال یعنی 2024 کی آٹم ایڈیشن میں تقریباً 26 ممالک اور خطوں سے 4,000 نمائش کنندگان اور 115 ممالک و خطوں سے 100,000 سے زائد وزیٹرز نے شرکت کی۔ ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے رجسٹریشن فیس 9لاکھ 35ہزار روپے ہے، جبکہ ایکسیسریز کے لیے یہ فیس 7لاکھ 60ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ 9 مربع میٹر اسٹال کی براہِ راست لاگت 15لاکھ 9ہزار953 روپے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔