آج القادر کیس پر سماعت ہونی تھی مگر بنچ توڑ دیا گیا، عمر ایوب
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن)قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا ہے کہ آج القادر کیس پر بانی اور بشریٰ بی بی کی ضمانتوں پر سماعت ہونی تھی مگر بنچ توڑدیاگیا۔انسٹالر رجیم نے ملک کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہے ہم اپنے تمام پابند سلاسل ساتھیوں کے ساتھ ہیں۔ اسلام آباد ہائی
کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے عمر ایوب خان نے کہا کہ ہم لوگ وقت پر ہائیکورٹ پہنچے سنگل بنچ اور ڈبل بنچ توڑ دیا گیا ہے ۔آج القادر کیس پر بانی اور بشری بی بی کی ضمانتوں پر سماعت ہونی تھی پانچ جون کو جج نے کہا کہ نیب اپنا وکیل پیش کرے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ فیل ہے ، ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ ہواوزیر اعظم اور صدر ہاؤس کے بجٹ میں اضافہ ہوا۔پٹرولیم لیوی 100 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔عمرایوب نے کہاکہ ہمارے وقت پر 20 روپے پٹرولیم لیوی تھی آدھے سے زیادہ بجٹ سود کی ادائیگی میں جائے گا ۔انسٹالر رجیم نے ملک کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہے ہم اپنے تمام پابند سلاسل ساتھیوں کے ساتھ ہیںہمارے ایک دوست کو جیل کی سزا سنا دی‘بانی کو ان کے رفقا سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔