60 کی دہائی کے عالمی شہرت یافتہ امریکی بینڈ کے بانی چل بسے
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
1960 میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے امریکی میوزیکل بینڈ ’’دی بیچ بوائز‘‘ کے شریک بانی اور لیجنڈری موسیقار برائن ولسن 82 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اہل خانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارا دل یہ اعلان کرتے ہوئے ٹوٹ رہا ہے کہ عزیز والد، برائن ولسن، اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
موسیقی کی دنیا کے اس درخشاں ستارنے 1942 میں کیلیفورنیا کے شہر ہارتھورن میں آنکھ کھولی اور اپنے چھوٹے بھائیوں کارل اور ڈینس، کزن مائیک لو اور دوست آل جارڈین کے ساتھ مل کر میوزیکل بینڈ کی بنیاد رکھی۔
اس میوزیکل بینڈ کا نام ’’ دی بیچ بوائز‘‘ رکھا گیا تھا جس نے امریکا ہی نہیں بلکہ دنیا کے سب سے کامیاب راک بینڈ کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔
میوزیکل بینڈ کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق ’’دی بیچ بوائز‘‘ کے 100 ملین سے زائد ریکارڈز دنیا بھر میں فروخت ہوئے۔
برائن ولسن نے "I Get Around"، "Help Me, Rhonda"، اور "Good Vibrations" جیسے شہرۂ آفاق گانے دیے۔
ان کا البم Pet Sounds ریکارڈنگ اسٹوڈیو میں موسیقی کی تخلیق کے منفرد انداز کی وجہ سے کلاسک تسلیم کیا جاتا ہے۔
حیرت انگیز صلاحیتوں اور موسیقی میں جدت کے باعث میگزین رولنگ اسٹون نے برائن ونسن کو 100 عظیم ترین فنکاروں کی فہرست میں 12ویں نمبر پر رکھا تھا۔
برائن ونسن کو 1984 میں شیزوفرینیا کی تشخیص ہوئی تھی جس کی ایک ممکنہ وجہ نفسیاتی ادویہ کا بے دریغ استعمال بتایا گیا تھا۔
گزشتہ برس کے اوائل میں برائن ونسن میں ڈیمینشیا کی علامات بھی ظاہر ہوئی تھیں اور گزشتہ برس ہی برائن ونسن کی دوسری اہلیہ میلنڈا کا انتقال ہوا تھا۔
برائن کی پہلی شادی سے دو بیٹیاں کارنی اور وینڈی ہیں جب کہ دوسری اہلیہ سے کوئی اپنی اولاد نہیں تھی لیکن جوڑے نے پانچ بچوں کو گود لیا تھا۔
برائن ولسن کے انتقال سے موسیقی کے ایک زرخیز عہد کا خاتمہ ہوگیا۔ دنیا بھر سے ان کے مداحوں اور موسیقی کے دلدادہ افراد نے برائن ونسن کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میوزیکل بینڈ برائن ولسن
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔