60 کی دہائی کے عالمی شہرت یافتہ امریکی بینڈ کے بانی چل بسے
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
1960 میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے امریکی میوزیکل بینڈ ’’دی بیچ بوائز‘‘ کے شریک بانی اور لیجنڈری موسیقار برائن ولسن 82 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اہل خانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارا دل یہ اعلان کرتے ہوئے ٹوٹ رہا ہے کہ عزیز والد، برائن ولسن، اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
موسیقی کی دنیا کے اس درخشاں ستارنے 1942 میں کیلیفورنیا کے شہر ہارتھورن میں آنکھ کھولی اور اپنے چھوٹے بھائیوں کارل اور ڈینس، کزن مائیک لو اور دوست آل جارڈین کے ساتھ مل کر میوزیکل بینڈ کی بنیاد رکھی۔
اس میوزیکل بینڈ کا نام ’’ دی بیچ بوائز‘‘ رکھا گیا تھا جس نے امریکا ہی نہیں بلکہ دنیا کے سب سے کامیاب راک بینڈ کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔
میوزیکل بینڈ کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق ’’دی بیچ بوائز‘‘ کے 100 ملین سے زائد ریکارڈز دنیا بھر میں فروخت ہوئے۔
برائن ولسن نے "I Get Around"، "Help Me, Rhonda"، اور "Good Vibrations" جیسے شہرۂ آفاق گانے دیے۔
ان کا البم Pet Sounds ریکارڈنگ اسٹوڈیو میں موسیقی کی تخلیق کے منفرد انداز کی وجہ سے کلاسک تسلیم کیا جاتا ہے۔
حیرت انگیز صلاحیتوں اور موسیقی میں جدت کے باعث میگزین رولنگ اسٹون نے برائن ونسن کو 100 عظیم ترین فنکاروں کی فہرست میں 12ویں نمبر پر رکھا تھا۔
برائن ونسن کو 1984 میں شیزوفرینیا کی تشخیص ہوئی تھی جس کی ایک ممکنہ وجہ نفسیاتی ادویہ کا بے دریغ استعمال بتایا گیا تھا۔
گزشتہ برس کے اوائل میں برائن ونسن میں ڈیمینشیا کی علامات بھی ظاہر ہوئی تھیں اور گزشتہ برس ہی برائن ونسن کی دوسری اہلیہ میلنڈا کا انتقال ہوا تھا۔
برائن کی پہلی شادی سے دو بیٹیاں کارنی اور وینڈی ہیں جب کہ دوسری اہلیہ سے کوئی اپنی اولاد نہیں تھی لیکن جوڑے نے پانچ بچوں کو گود لیا تھا۔
برائن ولسن کے انتقال سے موسیقی کے ایک زرخیز عہد کا خاتمہ ہوگیا۔ دنیا بھر سے ان کے مداحوں اور موسیقی کے دلدادہ افراد نے برائن ونسن کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میوزیکل بینڈ برائن ولسن
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز