یورپی یونین بھارت پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے جیسے ماورائے قانون اقدامات سے اجتناب کرنے پر زور دے، بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
برسلز (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جون2025ء) سابق وزیر خارجہ و چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ یورپی یونین بھارت پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے جیسے ماورائے قانون اقدامات سے اجتناب کرنے پر زور دے، پاکستان امن کا خواہاں ہے اور کشمیر سمیت تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا حامی ہے۔ جمعرات کو سفارتخانے سے جاری بیان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے یورپین پارلیمنٹ میں بین الاقوامی تجارتی کمیٹی (آئی این ٹی اے ) کی سربراہ برنڈ لانجےسے ملاقات کی جس دوران دوطرفہ تجارت سمیت علاقائی صورتحال بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پارلیمانی وفد نے دوران ملاقات بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ جارحانہ اقدامات اور خطے کی بگڑتی ہوئی صورتِحال بارے تفصیلی بریفنگ دی۔(جاری ہے)
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یورپی یونین قانون کی حکمرانی کی علمبردار ہے ،ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھارت پر اس ضمن میں زور دے گی کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے جیسے ماورائے قانون اقدامات سے اجتناب کرے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور کشمیر سمیت تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا حامی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت کی طرف سے شہری آبادی کو نشانہ بنانا اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ بین الریاستی اخلاقیات اور معاہداتی اصولوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک اور سابق نگران وزیر خارجہ ایمبیسڈر جلیل عباس جیلانی بھی ملاقات میں موجود تھے۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔