جوہری تنازع :ایران نے فوجی مشقوں کا اعلان کر کے دشمن کو خبردار کر دیا،
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران : ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے ملک بھر میں غیر متوقع طور پر فوجی مشقوں کے آغاز کا حکم دے دیا، یہ مشقیں ایران کی سالانہ منصوبہ بندی میں شامل نہیں تھیں اور ان کا مقصد مسلح افواج کی دفاعی و روک تھام کی صلاحیتوں میں اضافہ اور ان کی تیاری کا جائزہ لینا بتایا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق میجر جنرل محمد باقری نے اپنے احکامات میں واضح کیا کہ ان مشقوں کے ذریعے دشمن کی نقل و حرکت اور اس کی منصوبہ بندی پر بھرپور توجہ دی جائے گی، ان مشقوں کے آغاز کے ساتھ ایرانی مسلح افواج کے سالانہ شیڈول میں تبدیلی کی جائے گی تاکہ موجودہ حالات کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کی قرارداد پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی ایٹمی توانائی ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی نے اعلان کیا کہ ایران جلد تیسرا افزودگی کمپلیکس فعال کرے گا اور افزودہ مواد کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاہم نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں، اس لیے ٹریگر میکانزم کو فعال کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں، ایران اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن صورت حال کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے کمانڈر انچیف میجر جنرل حسین سلامی نے بھی واضح کہا ہے کہ ایران ہر ممکن منظرنامے، صورت حال اور حالات کے لیے تیار ہے،ہماری فوجی صلاحیتیں آزمائی گئی ہیں، ہم نے اپنی طاقت کو بڑھایا ہے، ہمارے پاس حکمت عملی ہے، ہمارے اہداف واضح ہیں، ہمارے منصوبے تیار ہیں اور ہم ان پر تربیت حاصل کر چکے ہیں۔
خیال رہےکہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز نے تقریباً 20 سال بعد پہلی بار ایک ایسی قرارداد منظور کی ہے جس میں ایران پر جوہری تحفظاتی وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس قرارداد کے حق میں 19 ووٹ آئے، جب کہ 3 ممالک نے مخالفت کی اور 11 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔