باعثِ فخر ہے کہ پاکستان کو 2025 کے اس پروگرام میں منتخب کیا گیا ہے مصطفی کمال
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 جون2025ء)وفاقی وزیرصحت مصطفی کمال سے گلوبل پلیٹ فارم فار ایکسیس ٹو چائلڈ ہڈ کینسر میڈیسنز کے وفدنے ملاقات کی ۔ وفد میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ہیڈکوارٹر اور سینٹ جوڈ چلڈرنز ریسرچ ہسپتال سے تعلق رکھنے والے اراکین بھی شامل تھے۔ مصطفی کمال نے وفد سے گفتگو میں کہا کہ یہ میرے لیے باعثِ فخر ہے کہ پاکستان کو 2025 کے اس پروگرام میں منتخب کیا گیا ہے۔
(جاری ہے)
پاکستان میں اگلے سال بچوں کے کینسر کی مفت ادویات کی فراہمی کے لیے منتخب کیا جانا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ میں اس کامیاب انتخاب پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس مقصد کے لیے گلوبل پلیٹ فارم فار ایکسیس ٹو چائلڈ ہڈ کینسر میڈیسنز سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔ پاکستان میں ہر سال 8000 سے زائد بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں ادویات کی دستیابی نہ ہونے کے باعث کافی بچے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ کینسر کے شکار بچوں کو بروقت اور مثر علاج کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے۔ جی پی اے سی سی ایم کے ذریعے پاکستان عالمی وسائل سے فائدہ اٹھا کر مقامی چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مصطفی کمال
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔