Daily Ausaf:
2026-07-24@06:32:58 GMT

پاک وزڈم ہائوس کے قیام کی تجویز

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

میں ان سطور کے ذریعے اہل فکر اور ارباب اختیار کو دعوت دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو پاکستان کی ترقی اور اسے دنیا کی عظیم ترین قوم بنانے کے لئے کوئی ’’بڑا قدم‘‘ اٹھائیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیئے قومی سوچ و فکر اور اجتماعی لائحہ عمل کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور دنیا بھر میں جہاں بھی پاکستانی آباد ہیں ان کے اندر ’’پاکستانی قومیت‘‘ کا یہ جذبہ پہلے ہی سے بدرجہ اتم موجود ہے، اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس قوت کو مجتمع کیسے کیا جائے؟
اس سے قبل انہی صفحات کے ذریعے 31 مئی 2025 ء کو ’’امارات کے پاکستانی سفیر کو کھلا خط!‘‘ کے عنوان سے یہ تجویز دی تھی کہ اس نصب العین کو حاصل کرنے کے لیئے متحدہ عرب امارات میں موجود عام پاکستانیوں، لکھاریوں، دانشوروں اور ادیبوں وغیرہ کو یکجا کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں بیٹھ کر یہ پاکستانی مادر ملک کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے بارے میں سوچیں، بحث و مباحث، مذاکرے اور کانفرنسز وغیرہ کریں اور پھر ان کی روشنی میں حکومتوں کو ترقی کرنے کی سفارشات، سمریاں اور لائحہ عمل وغیرہ بھجوایا کریں۔ سفیر پاکستان نے تو اس سلسلے میں تاحال کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے، لیکن امارات اور سعودی عرب سے چند خواتین نے اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے حوالے سے بڑی حوصلہ افزائی فرمائی اور تعاون کا مکمل یقین دلایا۔ اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سفیر پاکستان کے علاوہ میرے مرد قارئین میں سے بھی کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ تاہم جن خواتین نے تعاون کرنے کی پیشکش کی ان میں سعودی عرب سے ڈاکٹر محترمہ سمیرا عزیز، کراچی سے صائمہ صمیم، شارجہ سے ڈاکٹر نورالصباح اور دبئی سے اسما جان محمد سرفہرست ہیں۔ ڈاکٹر سمیرا عزیز سعودی نیشنل ہیں۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور وہ اردو زبان کی اعلیٰ پائے کی لکھاری، ادیبہ اور شاعرہ ہیں۔ محترمہ صائمہ صمیم فکشن رائٹر اور شاعرہ ہیں اور کراچی میں آئے روز ادبی تقریبات منعقد کرواتی ہیں، جبکہ اس مد میں وہ متحدہ عرب امارات میں بھی کافی دفعہ آ چکی ہیں۔ ڈاکٹر نورالصباح پیشے کے اعتبار سے متحدہ عرب امارات میں عجمان کے ایک ہسپتال میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور نامور کاروباری شخصیت بھی ہیں۔ وہ اپنے ’’چائے شائے ریسٹورنٹس‘‘کی برانچوں میں ہر دوسرے تیسرے ماہ کوئی نہ کوئی ادبی تقریب منعقد کرواتی ہیں اور خاص طور پر وہ شعرا کی جی بھر کر حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ وہ بہترین مقرر بھی ہیں اور انہیں پاکستانی سکول دبئی، پاکستان ایسوسی ایشن دبئی اور پاکستان سوشل سنٹر شارجہ میں کئی دفعہ سن چکا ہوں۔ جبکہ محترمہ اسما جان محمد پیشے کے اعتبار سے تو دبئی کی کسی فرم میں چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہیں مگر وہ ابھرتی ہوئی نوجوان موٹیویشنل رائٹر ہیں جنہوں نے انگریزی زبان میں ’’مایاز پیراڈاکس‘‘، ’’شور‘‘ اور ’’ریفلیکشنز‘‘جیسی مشہور اور بیسٹ سیلر کتابیں لکھی ہیں۔
یہ قانون فطرت ہے کہ چیزیں اگر ایک جگہ اکٹھی ہو جائیں یا انہیں ایک مقام پر جمع کر دیا جائے تو وہ اپنے اندر ایک عظیم الشان طاقت کو جنم دیتی ہیں۔ کسی بھی ملک، قوم اور معاشرے کے ذہین طبقہ کو اکٹھا کر کے ترقی کا یہ راز افشا کیا جا سکتا ہے کہ ملکی ماحول، مواقع اور ذہانت کو مدنظر رکھ کر ترقی کیسے کی جا سکتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ دنیا میں کچھ مذہبی، سیاسی اور تعلیمی انقلابات ایسے بھی آئے ہیں کہ جن کی بنیاد رکھنے اور لیڈ کرنے والی عظیم ہستیاں اپنے آبائی ملک سے باہر تھیں۔ خاص طور پر الہامی پیغام رسانی اور اصلاح معاشرہ کے لیئے انبیا کرام اور بزرگان دین کو ہجرت جیسے تکلیف دہ تجربات سے گزرنا پڑا جب انہوں نے ایمان لانے اور اپنے چاہنے والوں کی تلاش میں اپنے آبا و اجداد کے ملک اور شہر کو خیر آباد کہا۔ اس کی تاریخ ساز مثال نبی مکرم ﷺ کی ہجرت مدینہ ہے جہاں سے پورا عرب فتح ہوا اور جس کے بعد اسلام کی روشنی پوری دنیا میں پھیلانا شروع ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقام اور جگہ کوئی بھی ہو اللہ تعالی کی ذات جب کسی قوم کو نوازتی ہے تو اس میں کچھ خاص شخصیات کا انتخاب کرتی ہے، جو ایسے انقلابی قدم اٹھانے کی ابتدا کرتے ہیں۔
انسانی ترقی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی بھی بڑی ’’تبدیلی‘‘ یا ’’انقلاب‘‘ لانے کے لئے پہلا قدم اٹھانا ہی مشکل ہوتا ہے جس کے بعد لوگ آنا شروع ہو جاتے ہیں اور ’’قافلہ‘‘ بنتا چلا جاتا ہے۔ ایک جرمن فلاسفر کا قول ہے کہ جب وہ گہرا غوروخوض کرتے تھے تو دنیا کے حقائق ان کے سامنے ننگا ناچنے لگتے تھے۔ میں ملک سے باہر ذہانت کی منتقلی پر اکثر لکھتا رہتا ہوں۔ تاہم سمندر پار پاکستانی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں جو سالانہ اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ پاکستان بھجواتے ہیں۔ لیکن ان کی اجتماعی ذہانت اور صلاحیتوں کو معیشت کی مضبوطی کے علاوہ بھی کیش کرنے کی کوئی سبیل نکالی جانی چایئے جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا آغاز کیا جائے۔
پاکستان کی محبت سے سرشار سعودی عرب کی قومیت رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا عزیز کے علاوہ اماراتی نیشنل ڈاکٹر محمد زبیر فاروق بھی پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے کراچی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور وہیں سے اردو سیکھی۔ انہوں نے اردو شاعری کی درجنوں کتابیں تحریر کی ہیں۔ ڈاکٹر زبیر فاروق کو 2013 ء میں حکومت پاکستان نے ’’نشان امتیاز‘‘ سے نوازا تھا۔ اس وقت پاکستان کے صدر آصف علی زرداری تھے اور آج بھی اتفاق سے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری ہیں۔ میں انہی کالموں میں ڈاکٹر زبیر فاروق اور ڈاکٹر سمیرا عزیز کی خدمات کا پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں۔ پاکستان سے خصوصی لگائو رکھنے والی ان دو عرب شخصیات کے علاوہ متحدہ عرب امارات، دیگر خلیجی ریاستوں اور حتی کہ دنیا بھر میں بہت سے دوسرے غیرملکی بھی ہیں جو پاکستان سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں جن کو آرگنائزر کر کے پاکستان کے حق میں بہترین ’’سفارت کاری‘‘ کا فریضہ انجام دیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ اظہاریہ لکھنے کے بعد اس مد میں ڈاکٹر سمیرا عزیز نے خصوصی دلچسپی ظاہر کی تھی اور مجھے تجویز دی تھی کہ ’’پاکستان وذڈم ہائوس‘‘ کی طرز پر پاکستان اور دنیا بھر میں ایسے ’’دانش سنٹرز‘‘ قائم کیئے جانے چاہیے۔ پاکستانی سفارت خانوں کے پاس پاکستانی ترقی کے لیئے ایسے منصوبوں پر خرچ کرنے کے لئے خصوصی فنڈز ہوتے ہیں۔ اگر اس تجویز پر عمل کر لیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کی ترقی اور اسے واقعی عظیم قوم بنانے کے لیئے ایک بہت بڑی پیش رفت ہو گی۔
دنیا میں ترقی کی جست لگانے کے لئے پہلا قدم اٹھانا ہی مشکل ہوتا ہے پھر چاہے ایک ملین مائلز کا سفر ہی کیوں نہ ہو وہ اسی ایک قدم کے اٹھانے کے بعد ہی طے ہوتا ہے۔ یہ پہلا قدم پاکستانی ترقی کی تاریخ میں ایک ’’سنگ میل‘‘ کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ میں ارباب اختیار اور اہل دانش طبقہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ میری اس گزارش پر ضرور ہمدردانہ غوروفکر کریں گے۔ ایسی مثبت اور تعمیری تجاویز پر عمل کرنے ہی سے قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔ ’’اے بسہ آرزو کہ خاک نہ شدہ۔‘‘ اللہ کرے کہ اس بار اس تجویز کو شرف باریابی حاصل ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ڈاکٹر سمیرا عزیز متحدہ عرب امارات پاکستان کے پاکستان کی کرتے ہیں انہوں نے کے علاوہ ترقی کی ہوتا ہے ہیں اور کے لیئے کے بعد کے لئے

پڑھیں:

نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے

امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔

نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔

پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثرات

ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

امریکی حکومت کا مؤقف

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔

تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل

لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟

اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ