نمبر پلیٹس کا معاملہ، ایم کیو ایم اراکین سندھ اسمبلی کی وزیر ایکسائز سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
ایم کیو ایم مرکزی کمیٹی کے مطابق شہر قائد میں 33 لاکھ سے زیادہ موٹر سائیکلیں اور 23 لاکھ دیگر گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، جن کے مالکان کو آن لائن اپلائی کرنے کے باوجود نہ نمبر پلیٹس وقت پر موصول ہو رہی ہیں، نہ ہی متعلقہ محکمے کی جانب سے شکایتوں کا فوری ازالہ کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی مرکزی کمیٹی نے اراکین سندھ اسمبلی کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کراچی میں موٹر سائیکل اور گاڑیوں کے نمبر پلیٹس کی فراہمی، ٹریفک پولیس کی سخت کارروائیوں اور محکمہ ایکسائز کی سست روی جیسے عوامی مسائل پر فوری صوبائی وزیر ایکسائز اور متعلقہ حکام سے ملاقات کریں۔
ایم کیو ایم مرکزی کمیٹی کے مطابق شہر قائد میں 33 لاکھ سے زیادہ موٹر سائیکلیں اور 23 لاکھ دیگر گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، جن کے مالکان کو آن لائن اپلائی کرنے کے باوجود نہ نمبر پلیٹس وقت پر موصول ہو رہی ہیں، نہ ہی متعلقہ محکمے کی جانب سے شکایتوں کا فوری ازالہ کیا جا رہا ہے، جبکہ شہری پہلے ہی رجسٹریشن کے وقت یہ فیس دے چکے، اب دوبارہ اس مد میں رقم لینا عوام کے ساتھ زیادتی ہے، اس پر ستم ظریفی یہ کہ شہریوں کو سڑکوں پر پولیس کی دھمکیاں اور گاڑیوں کی ضبطی کا سامنا ہے۔
مرکزی کمیٹی نے اراکین سندھ اسمبلی کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر ایکسائز سے ملاقات کر کے انہیں محکمہ کی جانب سے مرکزی شاہراہوں پر موبائل کیمپس قائم کرنے کا مطالبہ کریں تاکہ نمبر پلیٹس کی فوری فراہمی ممکن بنائی جا سکے، اسی طرح آن لائن اپلائی کرنے والوں کو نمبر پلیٹس بذریعہ کوریئر گھر تک پہنچائی جائیں تاکہ دفتر کے چکر اور ایجنٹ مافیا سے نجات ملے، اس کے علاوہ فیسوں پر نظرثانی کی جائے اور پرانی فیس ادا کرنے والوں کو رعایت دی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مرکزی کمیٹی نمبر پلیٹس
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔