ٹیریان کی شادی سینیٹر کے بھائی سےطے ہوچکی تھی،بارات وزیراعظم ہائوس آنیوالی تھی،کس نے کیے کرائے پرپانی پھیردیا ۔۔۔تہلکہ خیز انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف صحافی حسان ہاشمی کو انٹرویو دیتے ہوئے سینئر صحافی رضوان رضی نے تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ جمائما اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ لندن کے مضافات میں ایک محل میں منتقل ہو گئی ہیں جبکہ ٹیریان امریکہ میں رہائش پذیر ہے اور اکثر لندن آتی جاتی رہتی ہے۔ رضوان رضی نے دعویٰ کیا کہ ٹیریان کی بات پاکستان کے ایک سینیٹر کے بھائی کے ساتھ پکی ہو گئی تھی جو اس وقت سرکاری ملازم ہیں اور وہی سینیٹر اب دوبارہ کے پی کے سے منتخب ہوئے ہیں۔
انٹرویو میں رضی نے کہا کہ عمران خان کو خدشہ تھا کہ اگر ٹیریان کی شادی کہیں اور ہو گئی تو 21 ارب روپے سے زائد کی جائیداد ملک سے باہر جا سکتی ہے، اسی لیے انہوں نے جذباتی انداز میں کہا تھا: “آخرکار میں تیرا باپ ہوں، تیرا خیال تو مجھے کرنا پڑے گا۔” رضوان رضی نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر سیاسی حالات نہ بدلتے تو کچھ عرصے کے بعد بارات وزیراعظم ہاؤس پہنچنے والی تھی لیکن قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کو غدار قرار دینے اور قرارداد مسترد کرنے سے یہ پلان رک گیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بشریٰ بی بی کو ٹیریان قابلِ قبول تھی لیکن جمائما نہیں اور اسی وجہ سے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے دوران کسی سرکاری یا غیر سرکاری دورے پر انگلینڈ جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رضی کے مطابق رشتے کا فالواپ بھی نہ ہو سکا اور بعد میں یہ تعلق ٹوٹ گیا۔
انٹرویو کے بعد سیاسی اور سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی ہے، تاہم عمران خان یا متعلقہ سینیٹر کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست نکلا تو یہ سیاسی اور ذاتی دونوں حوالوں سے بڑی خبر ثابت ہو سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک حاضر سروس سینیٹر کے بھائی کیساتھ عمران خان کی بیٹی ٹیریان خان کی شادی خانہ آبادی طے ہوئی۔
سینئر صحافی @realrazidada نے 5 اگست سے پہلے ہی بڑی خبر بریک کر دی۔#قدم_بڑھاؤ_تحریک_چلاؤ pic.
— Hassaan Hashmi (@hassaanhashmii) July 26, 2025
Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت