’جب آنکھ کھولی تو کپڑے نہیں تھے‘ماڈل کا سیاسی لیڈر پر سنگین الزام
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
گجرات (انٹرنیشنل ڈیسک) گجرات کے ضلع امریلی میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ سورت سے تعلق رکھنے والی ایک ماڈل نے مقامی سیاسی لیڈر پردیپ بھاکھر پر عصمت دری، بلیک میلنگ اور جھوٹے مقدمے میں پھسانے جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ یہ معاملہ اس لیے بھی سرخیوں میں ہے کیونکہ اس میں ایک سیاسی جماعت کے عہدیدار پر نہ صرف جنسی استحصال بلکہ دیگر سنگین جرائم کے الزامات بھی شامل ہیں۔ شکایت گر سومناتھ کے تلالہ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ہے۔
ریسورٹ میں پیش آیا لرزہ خیز واقعہ
خاتون ماڈل کا کہنا ہے کہ وہ کچھ دن قبل اپنے شوہر کے ساتھ گر سومناتھ کے بورواو گاؤں میں واقع ایک ریسورٹ میں اشتہار کی شوٹنگ کے لیے گئی تھی۔ اس دوران ان کے شوہر کے دوست اور مقامی سیاسی رہنما پردیپ بھاکھر بھی وہاں موجود تھے۔ سب نے مل کر کھانا کھایا اور گارڈن میں بیٹھ کر بات چیت کی۔
اسی دوران ماڈل کے شوہر کو ایک کال آئی اور وہ کچھ دیر کے لیے باہر چلا گیا۔ خاتون نے بتایا کہ وہ کمرے میں واپس آئی تو پردیپ بھاکھر بھی ماڈلنگ کے کام کے بہانے وہاں پہنچ گیا۔ اس کے ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کی بوتل تھی، جو اس نے ماڈل کو دی۔ خاتون نے جیسے ہی وہ پی، تقریباً 15 منٹ بعد اسے چکر آنے لگے اور وہ بے ہوش ہوگئی۔
“جب ہوش آیا تو جسم پر کپڑے نہیں تھے”
ماڈل نے پولیس کو بتایا:”جب میں ہوش میں آئی تو میرے جسم پر ایک بھی کپڑا نہیں تھا۔ میں نے پردیپ سے پوچھا یہ کیا ہوا تو اس نے کہا کہ ’ماڈلنگ میں یہ سب چلتا ہے‘۔”
خاتون کا دعویٰ ہے کہ پردیپ نے اس کی قابلِ اعتراض ویڈیوز اور تصاویر عام کرنے کی دھمکی دے کر اسے خاموش رہنے پر مجبور کیا۔ خوف کی وجہ سے وہ کچھ نہ بول سکی۔
پولیس میں شکایت اور سنگین انکشافات
ماڈل کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے ڈاک کے ذریعے پولیس کو اطلاع دی لیکن کوئی کارروائی نہ ہونے پر وہ خود سورت سے گر سومناتھ آئی اور تلالہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرایا۔ خاتون نے مزید الزام لگایا کہ اس واقعے کے بعد اسے ایک منشیات کیس میں جھوٹا پھنسایا گیا، جس کی وجہ سے وہ تقریباً دو ماہ جیل میں بھی رہی۔
“جس طرح میں نے جیل کاٹھی، اسی طرح ملزم کو بھی سزا ملنی چاہیے۔ مجھے بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن اب میں خاموش نہیں بیٹھوں گی۔”
پولیس کی کارروائی اور سیاسی ہلچل
پولیس نے خاتون کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ابھی تک پردیپ بھاکھر کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس بڑا سیاسی رخ اختیار کر سکتا ہے کیونکہ اس میں ایک معروف سیاسی رہنما کا نام شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔