کرشمہ کپور کے ارب پتی سابق شوہر کی موت؛ جائیداد پر تنازعات کھڑے ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
کرشمہ کپور کے سابق شوہر اور معروف بزنس مین سنجے کپور کی 300 ارب روپے کی سلطنت پر کنٹرول کے لیے ان کی والدہ اور دوسری بیوی کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا۔
بھارت کی معروف آٹو پارٹس کمپنی سونا کومسٹار، چیئرمین سنجے کپور کی اچانک موت کے بعد ایک بڑے خاندانی تنازع کا شکار ہو گئی۔
سنجے کپور کی دوسری پریا سچدیو کپور کو بورڈ میں شامل کرلیا جس پر سنجے کی والدہ رانی کپور نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔
25 جولائی کو ہونے والی سالانہ جنرل میٹنگ (AGM) میں سنجے کپور کی بیوہ پریا سچدیو کپور کو نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔
جس پر سنجے کی والدہ رانی کپور نے شدید اعتراض کیا تھا اور اس اجلاس کو ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جو مسترد کر دی گئی۔
والدہ رانی کپور نے الزام لگایا تھا کہ ان سے بیٹے کی موت کے سوگ کے دوران زبردستی بند کمروں میں کچھ دستاویزات پر دستخط کروائے گئے تھے۔
رانی کپور نے کمپنی بورڈ اور شیئر ہولڈرز کو بھیجے گئے خط میں کہا کہ وہ اپنے شوہر ڈاکٹر سرندر کپور کی وصیت کے مطابق گروپ کی اصل وارث ہیں۔
اس خط میں سنجے کی والدہ نے یہ بھی واضح کیا کہ انھوں نے اپنی بہو سمیت کسی کو بھی خاندانی وراثت کی نمائندگی کا اختیار نہیں دیا۔
تاہم کمپنی نے ایک ریگولیٹری فائلنگ میں رانی کپور کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2019 سے شیئر ہولڈر نہیں رہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ AGM قانونی تقاضوں کے مطابق منعقد ہوئی اور ان کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
یاد رہے کہ رانی کپور نے نہ صرف کمپنی کی قیادت بلکہ اپنے بیٹے کی موت پر بھی سوال اٹھائے تھے اور متعلقہ اداروں سے شفاف تحقیقات کی اپیل کی تھی۔
یہ بھی یاد رہے کہ دستاویزات کے مطابق، سنجے کپور RK فیملی ٹرسٹ کے واحد بینیفیشری تھے، جو Aureus Investments کا اہم حصہ دار ہے۔
اس بنیاد پر سنجے کی دوسری اہلیہ پریا سچدیو کپور کا بورڈ میں تقرر قانونی طور پر مضبوط ہے جب تک کہ کوئی ٹرسٹ سے متعلق قانونی چیلنج سامنے نہ آئے۔
واضح رہے کہ معروف بزنس مین سنجے کپور کی کرشمہ کپور سے شادی 2003 میں ہوئی تھی جو 2016 میں طلاق پر ختم ہوئی۔ ان کے دو بچے، سمایرا اور کیان ہیں۔
طلاق کے بعد بھی سنجے اپنے بچوں سے ملاقات کے لیے کرشمہ کے گھر ممبئی آتے رہتے تھے۔
بعد ازاں سنجے کپور نے ماڈل اور کاروباری خاتون پریا سچدیو سے دوسری شادی کی، اور 2018 میں ان کے ہاں ایک بیٹے اذاریاس کی پیدائش ہوئی تھی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سنجے کپور کی رانی کپور نے پریا سچدیو کی والدہ سنجے کی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔