کوئٹہ، سی ایم گولڈ کپ کے دو مختلف میچز میں فائرنگ سے دو افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
دو مختلف فٹبال گراؤنڈ میں آل پاکستان سی ایم گولڈ کپ کے میچ کے بعد فائرنگ سے مجموعی طور پر دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک ہی دن میں دو مختلف فٹبال گراؤنڈ میں آل پاکستان سی ایم گولڈ کپ کے میچ کے بعد فائرنگ سے مجموعی طور پر دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ایک فٹبال گراؤنڈ میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور بلوچستان اسمبلی کے اراکین بھی موجود تھے، جنہیں خوش قسمتی سے کچھ نہیں ہوا۔ تاہم سکیورٹی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پہلا واقعہ کوئٹہ ریلوے گراؤنڈ میں پیش آیا۔ جہاں افغان کلب چمن اور پاکستان پولیس کے درمیان فٹبال میچ جاری تھی۔ اس دوران ریفری نے فائل کرنے پر افغان کلب چمن کے خلاف فیصلہ دیا، تو تماشائی ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے میدان میں آ گئے۔ اس دوران نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے افغان کلب چمن کے گول کیپر کو زخمی کر دیا۔
دوسرا واقعہ کوئٹہ کے گلستان ٹاؤن علمدار روڈ میں واقع قیوم پاپا اسٹیڈیم میں پیش آیا۔ جہاں ہزاروں تماشائی دیگر علاقوں سے میچ دیکھنے آئے تھے۔ میچ کے بعد اسٹیڈیم کے باہر تماشائیوں کے ہجوم میں سے نامعلوم شخص نے فائرنگ کرکے ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی نوجوان کو زخمی کر دیا۔ اسی میچ کے دوران وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور صوبائی اسمبلی بھی میچ دیکھنے آئے تھے۔ خوش قسمتی سے ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ تو پیش نہیں آیا، تاہم گراؤنڈ میں تماشائیوں کے پاس اسلحہ کی موجودگی نے سکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ علمدار روڈ کے مقامی افراد بھی ایف سی حکام اور سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ باہر سے آنے والے افراد کی تلاشی لی جائے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میچ کے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔