کراچی، پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان مقابلے، 2 زخمی ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان دو علیحدہ مقابلوں میں دو ملزمان زخمی ہو گئے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ان کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ریڑھی روڈ کے قریب ابراہیم حیدری میں گشت پر مامور پولیس اہلکاروں نے مسلح ملزمان کو دیکھتے ہی فائرنگ کا تبادلہ کیا۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک ملزم زخمی ہو گیا جس کی شناخت یونس ولد عبدالشکور کے نام سے ہوئی۔
زخمی ملزم کے قبضے سے ایک پستول برآمد کیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزم کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا ہے اور اس کا کرمنل ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم کا ساتھی فائرنگ کے دوران موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے، جس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب سکھن کے علاقے روڈ نمبر 11 میں بھی پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
گشت پر مامور پولیس اہلکاروں نے مشتبہ افراد کو روکنے کی کوشش کی تو ملزمان نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک اور ملزم زخمی ہوگیا جس کی شناخت عثمان علی کے نام سے ہوئی۔
زخمی ملزم کے قبضے سے ایک پستول، موبائل فون اور نقد رقم برآمد ہوئی۔
پولیس نے زخمی ملزم کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال روانہ کر دیا ہے، اور اس کے قبضے سے برآمد ہونے والے اسلحہ کو فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزم کا کرمنل ریکارڈ چیک کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ فرار ملزم کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔