خوراکی تحفظ کے فروغ کے لیے ایتھوپیا اور پاکستان میں تعاون کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
خوراکی تحفظ کے فروغ کے لیے ایتھوپیا اور پاکستان میں تعاون کا آغاز WhatsAppFacebookTwitter 0 24 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) وفاقی جمہوریہ ایتھوپیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان نے خوراکی تحفظ کے اہم شعبے میں علم و تجربات کے تبادلے کے لیے پہلی مشترکہ “گرین لیگیسی فورم” منعقد کر کے باضابطہ تعاون کا آغاز کر دیا۔
ایتھوپیا کے پاکستان میں سفیرجمال بکر عبداللہ نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر میں وزارت قومی خوراک و تحقیق اور ایتھوپیا کے سفارت خانے کے اشتراک سے منعقدہونےوالے اس فورم کی صدارت کی۔ وفاقی سیکریٹری برائے قومی خوراک و تحقیق، عامر محی الدین، تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔
فورم میں بڑی تعداد میں زرعی ماہرین، اور طلبہ نے شرکت کی تاکہ ایتھوپیا کی کامیاب پالیسیوں، اقدامات اور نتائج سے آگاہی حاصل کی جا سکے جن کی بدولت وہ ایک مستحکم زرعی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔
ڈاکٹر جمال بکر نے کہا کہ ایتھوپیا اور پاکستان دونوں زرعی معیشتیں ہیں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا شکار ہیں۔ انہوں نے “گرین لیگیسی” اور “یلمات تروفات” (یعنی باؤنٹی آف باسکٹ) منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم ڈاکٹر ابی احمد کی قیادت میں ایتھوپیا نے خوراک میں خود کفالت حاصل کی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چھ سالوں میں ایتھوپیا نے 40.
سفیر نے پاکستان کے ساتھ خوراکی تحفظ کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔
وفاقی سیکریٹری نے ایتھوپیا کے “گرین لیگیسی” اور پاکستان کے “گرین پاکستان” پروگرام کو آپس میں جوڑنے کی تجویز دی تاکہ علم و مہارت کا تبادلہ کیا جا سکے اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ ملے۔
انہوں نے وزیر اعظم ابی احمد کے “گرین لیگیسی” پروگرام کو افریقہ میں خوشحالی اور سبز معشیت کی علامت قرار دیا، اور پاکستان میں بھی اس ماڈل کو اپنانے میں دلچسپی ظاہر کی، خاص طور پر اس کے بنیادی اجزا جیسے کہ شجر کاری، مقامی شراکت داری، زمینی و آبی تحفظ، اور مٹی کے کٹاؤ کی روک تھام کے لیے اقدامات۔
نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اعظم خان نے ماحولیاتی تبدیلی، سیلاب، بھوک، قحط اور غربت جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عالمی کوششوں پر زور دیا۔
فورم کے اختتام پر سفیر اور وفاقی سیکریٹری نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر میں “گرین لیگیسی پارک” کا افتتاح کیا اورایتھوپیا اورپاکستان دوستی کے فروغ کے لۓ پھل دار پودے لگائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان سنجیدہ مذاکرات کی دعوت دے چکا، اب فیصلہ بھارت کو کرنا ہوگا: دفتر خارجہ سی جی ٹی این کے سروے میں 65 اعشاریہ 2فیصد یورپی یونین کے شہری چین کے ساتھ تجارت کو فائدہ مند سمجھتے ہیں احتجاج کیس:پی ٹی آئی کے کون کونسے کارکنان کو سزائیں ہوئیں ؟ تصاویر و تفصیلات سب نیوز پر سینیٹ انتخابات: الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا سے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جنرل ساحر شمشاد مرزا سے سعودی نیول چیف کی ملاقات، سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال چھبیس نومبر بغیر اجازت احتجاج کیس کا پہلا فیصلہ: عدالت نے 12 پی ٹی آئی کارکنان کو سزائیں سنا دیں امید ہے کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا بات چیت کے ذریعے تنازع کو مناسب طریقے سے حل کریں گے، چینی وزارت خارجہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خوراکی تحفظ کے ایتھوپیا اور اور پاکستان پاکستان میں کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔